سرفروش

قسط نمبر 171
عباس ثاقب
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے نوجوانی کے امنگوں بھرے دور میں اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ صرف اس لئے کہ وطن عزیز پاکستان کو دشمنوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ جمال صاحب کراچی کے قدیم رہائشی ہیں اور ان دنوں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں بصد اصرار اس بات پر آمادہ ہوئے کہ اپنی زندگی کے تہلکہ خیز گوشوں سے پردہ اٹھائیں۔ ان کا اصل نام کچھ اور ہے۔ بعض نا گزیر اسباب کی بنا پر انہیں ’’جمال‘‘ کا فرضی نام دیا گیا ہے۔ اس کہانی کو ڈرامائی شکل دینے کیلئے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ کیونکہ یہ حقیقی ایڈوینچر کسی سنسنی خیز ناول سے زیادہ دلچسپ ہے۔ جمال صاحب کی کہانی ان لوگوں کیلئے دعوتِ فکر ہے، جنہیں یہ ملک بغیر کسی جد و جہد اور محنت کے ملا اور انہوں نے اس کی قدر کرنے کے بجائے اسی سے شکایات شروع کر دیں۔ امید ہے کہ قسط وار پیش کی جانے والی یہ کہانی ’’امت‘‘ کے خوش نظر قارئین کی پذیرائی حاصل کرے گی۔ (ادارہ)
میری بات سن کر ان سب کے چہروں پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ امردیپ کیونکہ تمام معاملے میں براہ راست فریق رہا تھا، لہٰذا اس نے میری بات کی بھرپور تائید کی ’’ہمیںآستین کے اس سانپ کی نشاندہی پر بھی بہادر سنگھ کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ توجہ نہ دلاتا تو ہم معاملہ ختم سمجھ کر مطمئن ہوجاتے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل خطرہ ابھی باقی ہے، وہ چھپا دشمن اہمیں کسی بھی وقت دوبارہ نشانہ بناسکتا ہے۔‘‘
بشن دیپ نے بڑے بھائی کی بات سن کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے بھائیا جی۔ پر کافی دماغ لڑانے کے باوجود ابھی تک کوئی ایسا نام میرے دماغ میں نہیں آیا جس پر میں شک کرسکوں۔ ہمارے سارے ملازم جاں نثار اور بھروسے کے قابل ہیں۔ یہ بھی پکی بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کل سے آج تک ہماری زرعی اراضی کی حدود سے باہر نہیں گیا، اور ان میں سے کوئی بھی اتنی گہرائی سے آپ کی پٹیالا میں سرگرمیوں سے واقف نہیں ہے۔‘‘
براہم دیپ سنگھ نے بھی اپنے چھوٹے بیٹے کی بھرپور تائید کی۔ اس موقع پر اس کی بیوی سکھونتی نے مداخلت کی ’’چور کا پتا لگانے کا ایک ہی طریقہ ہوا کرتا ہے۔ شور مچانے کے بجائے آنکھیں کھلی رکھو اور اس کے دوبارہ داؤ لگانے کا انتظار کرو۔ خود کو خطرے سے محفوظ سمجھ کر وہ جلد یا تھوڑی دیر سے، ضرور حرکت میں آئے گا۔‘‘
میں نے بزرگ خاتون کی تائید کی ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کو خطرے کا احساس ہوگیا ہے اور اب آپ پر بے خبری میں وار نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے اس شخص کی کوئی ایسی مشکوک حرکت اس کی طرف آپ کو متوجہ کرادے، جس پر آپ سب شاید پہلے دھیان ہی نہ دیتے۔‘‘
میں نے ان سب سے درخواست کی کہ بچوں کو ایک بار پھر اچھی طرح سمجھا دیا جائے کہ اس معاملے کی سن گن کسی باہر والے کو نہیں ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کو بغیر کسی نگرانی کے گھر سے باہر نہ چھوڑا جائے۔ یہ ذمہ داری امردیپ نے قبول کرلی اور سب اہل خانہ کو اس آستین کے سانپ کی تلاش میں مسلسل دماغ لڑانے اور آنکھیں کھلی رکھنے کی تاکید کرکے محفل برخاست کردی۔
صبح لگ بھگ سر پر آچکی تھی، لہٰذا تمام گھر والوں کا دن چڑھے تک سونا یقینی تھا۔ لیکن میں دیر تک محوخواب رہ کر پورا دن ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ مجھے یاد تھا کہ مجھے ظہیرشیخ کیلئے پیغام چھوڑنے مالیر کوٹلا جانا ہے۔ لہٰذا جب بشن دیپ مجھے میرے ٹھکانے پر چھوڑنے آیا تو میں نے کہا ’’بشنو بھائی جی، اب تک تو آپ کے خوب صورت علاقے کی آزادانہ سیاحت کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ سوچ رہا ہوں کل موٹر سائیکل لے کر آس پاس کے علاقوں میں نکل جاؤں۔‘‘
اس نے میری بات سن کر کہا ’’اچھا خیال ہے بہادر سنگھ جی۔ لیکن میرے ویر آج کا دن آرام کرلو۔ کل میں خود آپ کے ساتھ چلوں گا۔‘‘
میں نے کہا ’’بشنوبھائی، بات یہ ہے کہ میں ساری رات بھی جاگ لوں، تب بھی سورج چڑھنے پر زیادہ دیر سونہیں سکتا۔ ویسے بھی اکیلے آوارہ گردی اور نئے علاقوں کی کھوج لگانے کا اپنا ہی مزا ہے۔ آپ کے ساتھ پرسوں چلوں گا، بس آپ آج صبح کیلئے ایک موٹر سائیکل میرے حوالے کردیں۔‘‘
بشنو نے اس شرط کے ساتھ میری بات مان لی کہ موٹر سائیکل کے بجائے میں جیپ ساتھ لے کر جائوں گا۔ ’’وہ جیپ اب اپنی ہی سمجھو، کسی سے پوچھنے یا بتانے کی ضرورت نہیں، جہاں جی چاہے لے جاؤ۔ گھر والوں کیلئے دوسری گاڑی موجود ہے۔ ضرورت پڑی تو ایک اور آجائے گی۔‘‘
بشنو کو رخصت کرکے میں گرم لحاف میں لیٹا تو پہلی بار احساس ہوا کہ کتنا مصروف دن اور کیسی ہنگامہ خیزرات سر پر سے گزرگئی ہے۔ تھکن کی شدت سے میں زیادہ دیر حالیہ واقعات پر ذہن آزمائی کرنے سے قاصر رہا اور چند ہی منٹوں میں گہری نیند سوگیا۔
آنکھ کھلی تو صبح کے نو بجنے والے تھے۔ میں نے غسل خانے کا رخ کیا۔ واپس آیا تو حویلی کے خاص ملازم نیرج کو اپنا منتظر پایا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ کسی ٹیپ ریکارڈ کی طرح شروع ہوگیا ’’گرماگرم ناشتہ بس آنے ہی والا ہے سرکار۔ جیپ بھی بالکل تیار ہے۔ سب تیل پانی پورا ہے۔ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں، میں بندوبست کردیتا ہوں۔‘‘
مجھے رات کی ایک بات یاد آگئی ’’یار نیرج، یہ بتاؤ جیپ میں کوئی بیٹری والی ٹارچ موجود ہے؟‘‘
میری سن کر وہ کچھ جوش میں آگیا ’’لوجی، ٹارچ ہی کیوں؟جیپ کی پچھلی سیٹوں کے نیچے ہنگامی ضرورت کے سامان سے بھرا ہوا پورا بکس موجود ہے۔ مرہم پٹی، رسیاں، بیلچے، کلہاڑی…‘‘
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’ٹھیک ہے بھائی، اتنا کافی ہے۔ مجھے کون سا کوئی قلعہ فتح کرنا ہے۔‘‘
اس نے شرمندہ سا ہوکر صفائی پیش کی ’’وہ دراصل دونوں سردار بھائیوں کو سیر و شکار کا شوق ہے۔ بشن دیپ جی گاؤں آتے ہیں تو یہ دونوں کافی دور دور تک کاسفر کرتے رہتے ہیں۔ باقی جیپ میں کوئی معمولی سی خرابی بھی موجود ہونا امردیپ جی کے نزدیک ایک سنگین جرم ہے۔ وہ بہت روپیہ لگاتے ہیں اپنی گاڑیوں پر۔‘‘
نیرج نے جو کچھ بتایا، اس کی سچائی کا میں خود چشم دید گواہ تھا۔ ناہموار راستوں پر کڑی آزمائش کے باوجود جیپ نے معمولی سی بھی کوتاہی نہیں دکھائی تھی۔ ناشتے کے بعد میں باہر نکلا تو پھاٹک کے باہر جیپ میری منتظر تھی۔ نیرج نے خلوص اور گرم جوشی سے مجھے رخصت کیا۔ اس نے میری منزل پوچھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
مجھے چھاجلی گاؤں سے مالیر کوٹلا کا بالکل درست روٹ معلوم نہیں تھا، بس اندازہ تھا کہ بھوانی گڑھ سے کوئی راستہ نکلتا ہوگا۔ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ لگ بھگ دو میل کے فاصلے پر بڑی سڑک پر پہنچ کر کسی سے رہنمائی حاصل کروں گا۔ چند ہی منٹوں میں میری طاقت ور جیپ نے مجھے سڑک پر واقع سورام گاؤں پہنچا دیا۔ میں نے بھوانی گڑھ کی طرف جیپ بڑھاتے ہوئے بالآخر سڑک کنارے کھڑے ایک ٹرک کے ڈرائیور سے مالیر کوٹلا کا راستہ پوچھ لیا۔
شمالی ہندستان کے کسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور نے جواب دینے سے پہلے میرا اور پھر میری جیپ کا بغور جائزہ لیا اور پھر گویا مرعوب سا ہوکر بولا ’’سرکار یہاں سے کوئی تین میل آگے جاؤ گے تو موراں قصبہ آئے گا، وہاں سے ایک بڑی سڑک بائیں ہاتھ جارہی ہوگی۔ اس پر مڑجانا۔ سڑک پکی اور کافی اچھی حالت میں ہے۔ آدھے گھنٹے میں سورن گڑھ اور مزید آدھے گھنٹے میں دھوری قصبہ آئے گا۔ وہاں سے بس بارہ میل آگے مالیر کوٹلہ ہے۔‘‘
میں نے پوچھا ’’یہاں سے کل فاصلہ کتنا ہے؟ مطلب میں کتنی دیر میں وہاں پہنچ جاؤں گا؟‘‘
اس نے کچھ سوچ کر کہا ’’میرا خیال ہے چالیس میل کے قریب ہوگا مالیر کوٹلہ یہاں سے۔ آپ کی جیپ فٹ فاٹ ہے، بغیر رکے چلو تو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹے میں پہنچ جاؤگے۔‘‘
میں نے ٹرک ڈرائیورکا شکریہ ادا کیا اور ایکسلریٹر پر دباؤ بڑھا دیا۔ امردیپ کے ساتھ جاتے ہوئے یہ موراں قصبہ نہیں آیا تھا۔ ہم شاید کسی اندرونی سڑک سے نکلے تھے۔ دائیں طرف جانے والی سڑک واقعی نسبتاً چوڑی اور بہتر حالت میں تھی اورخاصا ٹریفک ہونے کے باوجود مجھے خاصی رفتار سے جیپ بھگانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ سورن گڑھ آیا اور گزر گیا۔ موسم کافی خوش گوار تھا اور مجھے گاڑی چلانے میں مزا آرہا تھا، یہ الگ بات ہے کہ یہ اندیشہ بار بار ذہن کے پردے پر دستک دے رہا تھا کہ مالیر کوٹلہ کی گزشتہ یاترا کا کوئی کردار، مجھے بس میں ایک چور کی حیثیت سے داروغہ کی تحویل میں ذلیل ہوتے دیکھنے والا کوئی تیز نظر شخص مجھے شناخت نہ کرلے۔ لیکن پھر میری بغل میں خوابیدہ ریوالور کی موجودگی مجھے اطمینان دلاتی کہ میں کسی بھی خطرے کا سر کچلنے کی پوری تیاری کرکے اس مہم پرنکلا ہوں۔کسی نے میری راہ روکنے کی کوشش کی تو بھگتے گا۔ (جاری ہے)

Comments (0)
Add Comment