معارف القرآن

سورئہ حدید مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور اس کی انتیس آیتیں ہیں اور چار رکوع۔
شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا، اسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا۔ جلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں، پھر قائم ہوا تخت پر۔ جانتا ہے جو اندر جاتا ہے زمین کے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے۔ اسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا اور اللہ ہی تک پہنچتے ہیں ۔
سب کام۔ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس کو خبر ہے جیوں کی بات کی۔
خلاصۂ تفسیر
اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات ) ہیں (زبان قال سے یا زبان حال سے ) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی۔ وہی حیات دیتا ہے اور (وہی ) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی (سب مخلوق سے) پہلے ہے اور وہی (سب کے فنائ ذاتی یا صفاتی سے) پیچھے (بھی رہے گا ، یعنی اس پر نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کسی درجہ میں اس پر عدم طاری ہونے کا امکان ہے ، اس لئے سب سے آخر میں وہی ہے) اور وہی (مطلق وجود کے اعتبار سے ازروئے دلائل نہایت) ظاہر ہے اور وہی (کنہ ذات کے اعتبار سے نہایت) مخفی ہے (یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کر سکتا) اور (گو وہ خود تو ایسا ہے کہ مخلوق کو ایک حیثیت سے معلوم ہے اور ایک حیثیت سے غیر معلوم لیکن مخلوق سب من کل الوجوہ اس کو معلوم ہے ) (جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment