حضرت مخریقؓ کا شمار یہودی علماء میں ہوتا تھا۔ نہایت صالح عالم تھے، ابھی ایمان نہیں لائے تھے کہ غزوئہ احد پیش آگیا۔ یہ اپنے قبیلے بنو نضیر کے پاس گئے اور کہا ’’تم لوگوں نے محمدؐ سے عہد کیا ہے۔ تم کو ہر طرح سے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ جب ان کی مدد تم پر فرض ہے تو تم کو پہلوتہی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
یہودیوں نے کہا آج سنیچر کا دن ہے اور تم کو معلوم ہے کہ بنی اسرائیل سنیچر (یوم السبت یعنی ہفتہ) کو تلوار نہیں اٹھا سکتے، پھر ہم کیونکر ان کی مدد کر سکتے ہیں؟‘‘
حضرت مخریقؓ نے فرمایا: ’’یہ تمہارا عذر لنگ ہے، سنیچر ونیچر کچھ نہیں ہوتا۔ چلو اٹھو، میدان میں پہنچو۔‘‘ لیکن یہودی چونکہ دل سے رسول اقدسؐ کے مخالف تھے، اس لیے ان میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔
حضرت مخریقؓ چونکہ دل سے رسول اقدسؐ کے شیدائی تھے، اس لیے انہوں نے تلوار لی اور بڑے جوش سے مسجد نبوی میں پہنچ کر مجاہدین کی جماعت میں شامل ہوگئے۔ آپ میدان احد میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر رسول اکرمؐ پر قربان ہونے کے لیے لڑتے رہے، یہاں تک کہ وہ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔
احد کے میدان میں جب یہ زخمی ہوگئے تو انہوں نے اپنی جائیداد، باغ اور مال و اسباب سب رسول ا قدسؐ کو وصیت کردیا۔ اس میں کئی بڑے بڑے باغات…المیث الصائقہ، الدلال، حسن، جرفہ، الاعواف، مشربہ ام ابراہیم تھے۔ (تجرید جلد2 صفحہ 70 اصابہ جلد 3 صفحہ 363)
حضرت سعد الاسودؓ بڑے کالے تھے۔ رب تعالیٰ نے ایک نازک دل اور حسین سیرت عطا فرمائی تھی، حسن ظاہری سے محروم تھے۔ اتنے کالے تھے کہ نام کے ساتھ اسود (کلوا) جڑ گیا تھا۔ اس کم روئی کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی بھی شادی ہو۔ ایک دن انہوں نے رسول اقدسؐ سے درخواست کی ’’حضور! میرے رنگ روپ کی وجہ سے کوئی میری شادی اپنی لڑکی سے کرنے کو تیار نہیں ہے‘‘ رسول اقدسؐ نے عمرؓ بن وہب ثقفی کی خوب صورت لڑکی سے ان کی شادی کروا دی۔
ایسی نایاب دولت کو پاکر سعدؓ پھولے نہ سماتے تھے۔ دلہن سے ملنے کا انتہائی اشتیاق تھا۔ دل میں پیار کا طوفان چھپائے بازار گئے کہ کچھ تحائف خرید کر لائیں، جو پہلی ملاقات میں بیوی کی نذر کریں۔ یہ بازار میں تھے کہ ایک منادی کی آواز سنی:
’’خدا کے شہسوارو! جہاد کے لیے سوار ہو جائو اور جنت کی خوش خبری سنو‘‘
اس اعلان کو سن کر سعدؓ بڑی کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ ایک طرف حسین دلہن سے ملنے کا اشتیاق تھا، دوسری طرف رسول اقدسؐ کی محبت اور حفاظت کا تقاضا تھا۔ آخر خدا اور رسولؐ کی محبت غالب آئی جو پیسے دلہن کے لیے تحفے خریدنے کے لیے تھے، ان سے عمامہ، تلوار، نیزہ اور گھوڑا خرید کر میدان کارزار میں جا پہنچے۔
رسول اقدسؐ کے دفاع میں سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ میدان میں گھوڑا دوڑاتے پھرتے تھے، جب گھوڑا تھک گیا تو آستین چڑھا کر پیدل ہی دشمن کے مقابلے پر ڈٹ گئے۔ رسول اکرمؐ نے ان کے سیاہ ہاتھ دیکھے تو پہچان کر آواز دی: ’’سعد! ادھر آئو‘‘ مگر یہ شوق شہادت کے نشے میں سرشار، رسول اکرمؐ کی حفاظت میں سر نچھاور کرنے کو تیار، ایسے منہمک تھے کہ انہیں کچھ خبر نہ ہوئی۔ آخر اسی طرح جنگ کرتے ہوئے دل میں عشق و محبت کا طوفان لیے شہید ہوگئے۔ (اسد الغابہ جلد اول)
احد کے میدان میں حضرت ام عمارہؓ بھی شریک تھیں۔ وہ زخمیوں کی مہم پٹی کرنے اور ان کو خیموں تک پہنچانے کا کام کر رہی تھیں۔ وہ مجاہدین کو پانی بھی پلا رہی تھیں۔ مسلمانوں کی فتح جب شکست میں بدلنا شروع ہوئی تو دشمن کے دبائو سے عام مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے۔ چند جان نثاروں کے علاوہ رسول اکرمؐ کے پاس بھی کوئی نہ بچا۔
ام عمارہؓ کندھے میں مشکیزہ لٹکائے پانی پلانے کے لیے رسول اکرمؐ کی طرف گئیں تو دیکھا کہ وہ دشمن کے نرغے میں ہیں۔ گنتی کے چند لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ وہ بے تاب ہو کر پکاریں: ’’آہ! سب لوگ کہاں گئے، رسول اکرمؐ کو تنہا چھوڑ گئے۔ کوئی مجھے تلوار دے تاکہ میں رسول اکرمؐ کی مدافعت کروں۔‘‘ انہوں نے پانی کا مشکیزہ ایک طرف پھینک دیا اور کسی شہید کی تلوار اٹھا کر رسول اکرمؐ کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ بڑی بہادری سے ہر آنے والے کا مقابلہ کرنے لگیں۔
لشکر میں افراتفری کا عالم تھا۔ ابن قمئہ مشرکین کی فوج سے نکلا۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا۔ وہ تلوار ہوا میں لہراتا ہوا پکارا: ’’بتائو محمد کہاں ہیں؟ آج یا تو وہ نہیں یا میں نہیں۔‘‘
ام عمارہؓ یہ آواز سن کر تڑپ اٹھیں۔ للکار کر بولیں: مردود کیا بکتا ہے؟ وہ تلوار لے کر اس کے راستہ میں آگئیں۔ ابن قمئہ نے تلوار کا ایک ایسا وار کیا کہ ان کا بازو کٹ گیا اور خون کا فورا چھوٹنے لگا اور رسول اکرمؐ کی یہ شیدائی زخم سے نڈھال ایک طرف گر کر کراہنے لگیں۔ حضرت حمزہؓ ادھر سے گزرے تو انہیں کراہتے دیکھ کر حال پوچھا۔ ان کی زبان پر اس وقت صرف یہ الفاظ تھے: ’’رسول اکرمؐ! رسول اکرمؐ، بتائو رسول اکرمؐ کیسے ہیں؟ دیکھو! اب قمئہ رسول اکرمؐ کی تلاش میں نکلا ہے، کہیں آپؐ کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔‘‘ (سیرۃ ابن ہشام، تاریخ طبری)
٭٭٭٭٭