نجی اسکولوں کی من مانیوں کے خلاف کارروائی میں وسائل آڑے آگئے

عظمت علی رحمانی
محکمہ تعلیم سندھ کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکول ایجوکیشن میں افسران کی شدید کمی کے سبب نجی اسکولوں کے مالکان پر گرفت نہیں کی جا رہی۔ یہی سبب ہے کہ نجی اسکولز کے مالکان فیسیں کم نہیں کر رہے۔ اسکولوں کا ریکارڈ چیک کرنا اور انسپکشن کرنا چند سرکاری افسران کے بس میں نہیں ہے۔ معاملات عدالت میں ہونے کی وجہ سے اسکولوں کے مالکان محکمہ کے ساتھ ڈیلنگ میں مسلسل بہانے تراش رہے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ کے افسران شکایت پر ہی کارروائی پر اکتفا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے والدین اور طلبہ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسکولوں کی زائد فیس کی وصولی سمیت دیگر امور کے حوالے سے کیس کی سماعت کی گئی، جس میں معلوم ہوا کہ اسکولوں کی جانب سے تاحال زائد فیسوں کی وصولی جاری ہے، جبکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ جبکہ جہاں جن اسکولوں میں فیسیں کم کی گئیں، وہاں تعلیمی معیار گرانے اور طلبہ کی سہولیات میں کمی کرنا شروع کر دی گئی ہے، جس پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔
ملک بھر کے سیکریٹریز ایجوکیشن کی جانب سے اپنے ماتحت اداروں ڈائریکٹوریٹس پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی انتظامیہ کے ذریعے فیسوں میں کمی کے حوالے سے طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم متعلقہ محکموں کی جانب سے فائلوں کے علاوہ عملی طور کوئی بھی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی ہے۔ معلوم رہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے محکموں کے بعد ابھی تک ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن میں افسران کی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ شہر میں قائم 5 ہزار کے لگ بھگ نجی اسکولوں میں انسپکشن کرنے، ان کی رجسٹریشن اور تجدیدی رجسٹریشین کرنے سمیت دیگر معاملات کیلئے صرف درجن بھر افسران موجود ہیں۔ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر محکمہ ایجوکیشن سندھ نے ڈائریکٹوریٹس میں افسران کا اضافہ کیا ہے، نہ ہی متعلقہ شعبے کو کوئی نئی پالیسی دی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک جانب ادارے کو شدید مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب حد سے زیادہ فیسیں دینے پر مجبور والدین اور طلبا و طالبات کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے 13 دسمبر کو ایف آئی اے کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، سٹی اسکول پرائیویٹ لمیٹڈ، سٹی اسکول سسٹم، لاہور گرامر اسکول، روٹس انٹرنیشنل اسکول سسٹم، روٹس اسکول سسٹم، روٹس ملینیم اسکول، روٹس لیوی اسکول، لرننگ الائنس، لاہور کالج آف آرٹس اینڈ سائنس، فروبلز ایجوکیشن سینٹر کراچی، فاریبلز پرائیویٹ لمیٹڈ اسلام آباد، ہیڈ اسٹارٹ اسکول اسلام آباد، ریسورس اکیڈمیا، پنجاب گروپ آف کالجز، بے ویو اکیڈمی کراچی، سلامت اسکول سسٹم لاہور، جنریشن اسکول کراچی، سولائزیشن اسکول، الائنس ریسورس ڈی ایچ اے لاہور اینڈ گجرانوالہ، دی لرننگ ٹری اسکول، سٹی پبلک اسکول اور ایڈن اسکول سسٹم کے خلاف انکوائری کریں اور ان کے اکاؤنٹس فی الفور سیز کئے جائیں۔ اس کے بعد مذکورہ 22 اسکولوں کا ریکارڈ ایف آئی اے نے سیز کردیا تھا اور ریکارڈ ایف بی آر کے ساتھ بھی شیئر کر دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ ڈاکٹر منیر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ اسکولو ں کا مینول اور کمپیٹوٹرائزڈ ریکارڈ سیز کر دیا تھا۔ جس کے بعد ہم نے ایف بی آر سے بھی ڈیٹا شیئر کر دیا تھا۔ اب ایف بی آر نے ہی ان کا آڈٹ کرنا ہے‘‘۔
آل سندھ پیرنٹس ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ رضوان علی کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں زیادہ تر ایسے اسکولوں کے خلاف شکایات آرہی ہیں، جو ان 22 اسکولوں کے علاوہ ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر اسکولوں کے مالکان یا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمارا ان 22 اسکولوں کی لسٹ میں نام نہیں ہے، جو ایف آئی اے کو دی گئی ہے۔ ہمارے پاس ایسی شکایات آتی ہیں، جس میں والدین کہتے ہیں کہ اسکولوں کے مالکان ان کو یہی کہتے ہیں کہ ان کے پاس کہیں سے بھی کوئی تحریری لیٹر نہیں آیا، جس کے مطابق وہ فیس کو کم کریں۔ ہم نے اس بارے میں وزیر تعلیم سندھ سید مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے کہا کہ عدالتی آرڈر کے تحت تحریری لیٹرز اسکولوں کو بھجوانے کا کام کیا جائے، تاکہ والدین کو آگے سے اسکولوں کے مالکان یہ جواب نہ دیں کہ انہیں تحریری لیٹر نہیں ملا ہے‘‘۔ رضوان علی کا مزید کہنا ہے کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکول کے پاس افسران کی شدید کمی ہے۔ تاہم وزیر تعلیم نے ہمیں کہا تھا کہ ہم ایک مانیٹرنگ کمیٹی بنائیں گے، جس میں والدین کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ لیکن یہ کمیٹی اب تک نہیں بنی ہے۔ ہم نے وزیر تعلیم سے یہ بھی کہا تھا کہ ضلع کی سطح پر ہم والنٹیئرز بھی دینے کو تیار ہیں، کیونکہ محکمہ کے پاس شاید فنڈز و بجٹ کم ہیں‘‘۔ رضوان علی کا کہنا ہے کہ جن اسکولوں کی فیسیں 5 ہزار سے زائد ہیں، ان کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔
ایجوکیشنل ریفارم ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر راجا محمد فیاض کا کہنا ہے کہ جن اسکولوں کی فیسیں 5 ہزار سے زائد ہیں، ان سے فیسیں کم کرانا ڈائریکٹویٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کے افسران کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ اسکولوں میں ایس او پی کے مطابق 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دلوانے کا پابند کیا جائے۔ اسکولو ں میں انسپکشن نہ ہونے کی وجہ سے والدین اور حکومت کا بس نہیں چلتا۔ اسکولوں کے مالکان کی جانب سے اثرورسوح استعمال کرکے انسپکشن نہیں کرایا جاتا۔ جبکہ محکمہ کے پاس انسپکشن کرنے کیلئے مذکورہ تعداد مکمل نہیں، جس کی وجہ سے نقصان والدین کو زائد فیسوں کی ادائیگی کی صورت میں ہو رہا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن میں افسران کی شدید کمی کے سبب سندھ بھر کے اسکولوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکی ہے۔ ڈائریکٹویٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کے افسران کی جانب سے اگر ہر اسکول کا صرف میرٹ پر انسپکشن ہی شروع کر دیا جائے تو کوئی بھی اسکول زائد فیس وصول کرے گا نہ ہی اسکولوں میں فیسوں سمیت دیگر کوئی ایشوز سامنے آئیں گے۔ اس محکمہ کی غفلت اور کمزوری کی وجہ سے جمعرات کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نجی اسکولوں کی اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جس میں پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سمیت سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن ڈاکٹر منسوب حسین صدیقی کا کہنا ہے کہ ’’ہم بھر پور کوشش کر رہے ہیں کہ اسکولوں سے فیس کم کرائیں۔ البتہ جنہوں نے زیادہ فیس لے لی ہے، ان سے واپسی کا معاملہ ایف آئی اے اور ایف بی آر کے پاس ہے۔ ہم نے سب اسکولوں کو پابند کرنے کیلئے انہیں نوٹی فکیشن بھی جاری کئے ہیں۔ ہمارے پاس افسران کی کمی ہے اور جو افسران موجود ہیں، وہ دن رات کام کرتے ہیں۔ جن اسکولوں کی فیس 5 ہزار روپے سے زائد ہے، ان سب کیلئے عدالتی حکم ہے کہ وہ اپنی فیس 20 فیصد کم کریں‘‘۔
پیرنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کاشف صابرانی کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل نہیں ہو رہا ہے۔ عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جنوری میں جون یا جولائی میں سے ایک ماہ کی فیس لی جائے گی۔ مجموعی ماہانہ فیس میں سے 20 فیصد کمی کی جائے گی اور وصول کردہ فیس واپس کی جائے گی۔ 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ جبکہ کوئی بھی اسکول مذکورہ فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا ہے۔ کاشف صابرانی کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہمیں یومیہ درجنوں اسکولوں کے خلاف والدین کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ہم سے زائد فیسیں لی جارہی ہیں۔ میرے خیال میں ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کی انتظامیہ کی نااہلی یا غفلت ہے۔ کیونکہ اگر وہ بروقت کارروائی کریں تو شاید بہت زیادہ فرق پڑجائے گا۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment