تابعین کے ایمان افروزواقعات

نئی نسل کے لیے عظیم ورثہ:
حضرت حسن بصریؒ اسّی (80) برس زندہ رہے اور اس دوران دنیا کو اپنے علم و عمل، حکمت، عقل مندی اور سمجھ داری سے فائدہ پہنچاتے رہے۔
انہوں نے نئی نسل کے لیے جو عظیم ورثہ چھوڑا، وہ ان کے دل ہلا دینے والے وعظ و نصائح ہیں، جو رہتی دنیا تک پریشان دلوں کے لیے بہار بنے رہیں گے۔
ان کی نصیحتیں دلوں میں نرمی پیدا کریں گی اور دینی جذبہ پیدا کرتی رہیں گی، ان کے دل ہلادینے والے بیانات کے اثر کی بنا پر احساس ندامت سے آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری رہیں گی، پریشان حال لوگون کو رہنمائی ملتی رہے گی اور غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو دنیا کی حقیقت سے آگاہی حاصل ہوتی رہے گی۔
ایک شخص نے حضرت بصریؒ سے دنیا کے متعلق پوچھا تو آپؒ نے فرمایا: مجھ سے تم دنیا و آخرت کے متعلق پوچھتے ہو تو سنو: ’’دنیا و آخرت کی مثال مشرق و مغرب جیسی ہے، جتنا زیادہ تم ایک کے قریب جاؤ گے، اتنا ہی دوسرے سے دور ہوتے جاؤ گے۔‘‘
’’تم کہتے ہو کہ میں دنیا کے اوصاف بیان کروں۔ میں تمہارے سامنے اس گھر کی کیا صفت بیان کروں، جس کا آغاز مشقت و تکلیف پر مبنی ہے اور جس کا انجام فنا و بربادی ہے، اس میں جو حلال ہے اس کا حساب لیا جائے گا اور جو حرام ہے اس کے استعمال پر سزا دی جائے گی، جو اس میں مال دار ہوا، وہ فتنہ میں مبتلا ہوا اور جو فقیر و محتاج ہوا، وہ پریشانی اور رسوائی کا شکار ہوا۔‘‘
اسی طرح ایک شخص نے آپؒ سے حال دریافت کیا تو فرمایا:
’’بھائی میرا حال کیا پوچھتے ہو! افسوس ہم نے اپنی جانوں پر کتنے ظلم ڈھائے، ہم نے اپنے دین کو کمزور کر دیا اور دنیاوی حرص نے ہمیں موٹا کر دیا، ہم نے اپنے اخلاق بوسیدہ کردیئے اور اپنے بستر اور کپڑے نئے بنوالیے۔ ہم میں سے ایک اپنے بائیں پہلو پہ ٹیک لگائے مزے سے پڑا رہتا ہے اور غیروں کے مال بڑی بے پرواہی سے ہڑپ کیے جاتا ہے۔‘‘
پھر فرمایا: ’’تیرا چھینے ہوئے مال سے کھانا، تیرا دوسرے ناداروں سے کام لینا مزدوری ادا کئے بغیر، پھر تو نمکین کے بعد میٹھا کھانے کے لیے منگواتا ہے ٹھنڈے کے بعد گرم پیتا ہے، خشک کے بعد تر کھجوریں کھاتا ہے پھر پیٹ میں درد اٹھتا ہے اور قے آنے لگتی ہے، پھر گھر میں شور مچاتا ہے کہ جلدی چورن لاؤ کہ کھانا ہضم ہو جائے۔
اے گھٹیا نادان! خدا کی قسم، اپنے دین کے سوا کچھ بھی ہضم نہیں کر سکے گا۔ ارے احمق! تیرے پڑوسی کہاں اور کس حال میں ہے؟ تیری قوم کا بھوکا یتیم کہاں ہے؟ وہ مسکین کہاں ہے جو تیری طرف دیکھتا رہتا ہے؟ وہ مخلوق کہاں ہے جس کی نگرانی اور دیکھ بھال کی حق تعالی نے تجھے وصیت کی تھی؟ کاش تجھے علم ہوتا کہ تو محض ایک گنتی کا ہندسہ ہے، جب ایک دن کا سورج غروب ہوتا ہے تو تیری زندگی کا ایک دن کم ہو جاتا ہے۔
وفات:
یکم رجب 110 ہجری جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب حضرت حسن بصریؒ نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے، صبح کے وقت جب ان کی وفات کی خبر لوگوں میں پھیلی تو بصرہ میں کہرام مچ گیا۔ آپ کو غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور اس مرکزی مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی گئی، جس میں زندگی کا بیشتر حصہ عالم، معلم اور داعی کی حیثیت میں گزارا۔
بصرہ کے تمام لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ اس روز بصرہ کی مرکزی مسجد میں نماز عصر کی جماعت نہیں ہوئی کیوں کہ شہر میں نماز پڑھنے والا کوئی فرد باقی نہیں رہا تھا۔
حق تعالیٰ اس نرم مزاج، سادہ طبیعت، میٹھے لہجے، پاک فطرت، کھلے دل اور مسکراتے چہرے والے عظیم مرتبہ شخص کی قبر کو منور کرے۔ آسمان آپ کی قبر پر رحمت کی بوندیں برسائے۔ آمین۔(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment