سانحہ ساہیوال ماضی کا قصہ بننے کے قریب

امت رپورٹ
سانحہ ساہیوال کو گزرے تقریباً دو ہفتے ہوچکے، لیکن کیس کی سست تحقیقات کسی منطقی انجام کی طرف جاتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ خود متاثرہ خاندان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ شاید انہیں کبھی انصاف نہ مل سکے اور یہ واقعہ بھی دیگر سانحات کی طرح ماضی کا قصہ بن جائے گا۔ متاثرہ فیملیوں پر طاری مایوسی کا سبب اس کیس کے حوالے سے موجودہ زمین حقائق ہیں۔
مقتولین کے خاندانی ذرائع کے مطابق قتل میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف شواہد کو مٹایا جارہا ہے۔ جائے وقوعہ کو واردات کے فوری بعد دھودیا گیا تھا۔ جبکہ قتل میں استعمال ہونے والی رائفلیں تاحال فارنسک تجزیہ کے لئے لیبارٹری نہیں بھیجی گئیں۔ اب اس دوران یہ اطلاعات آئی ہیں کہ واقعہ میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار گاڑی پر فائرنگ کرنے سے ہی مکر گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے تفتیش کی ہے۔ کار پر فائرنگ سے انکار پر جب گرفتار اہلکاروں سے پوچھا گیا کہ پھر گاڑی میں سوار افراد کیسے ہلاک ہوگئے؟ تو ملزمان کا کہنا تھا کہ وہ موٹر سائیکل سوار اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ قبل ازیں گرفتار پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ انہوں نے کسی کے حکم پر نہیں، بلکہ کار سے ہونے والی فائرنگ کے جواب میں گولی چلائی تھی۔
مقتولین کے خاندانی ذرائع کے بقول واقعہ میں استعمال ہونے والی رائفلوں کو اسی لئے اب تک فارنسک تجزیہ کے لئے نہیں بھیجا گیا کہ اب کوئی ایسی ترکیب لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے ثابت کیا جاسکے کہ ملزمان کو لگنے والی گولیاں سرکاری اسلحے سے نہیں چلی تھیں۔ ورنہ اب تک ان رائفلوں کو لیبارٹری بھیج دیا جاتا۔
سانحہ ساہیوال کے مدعی جلیل ملزمان کی شناخت کے لئے شناختی پریڈ کے عمل کا حصہ بننے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔ جلیل کا کہنا ہے کہ اس شناختی پریڈ کے لئے ان کو بلانا مضحکہ خیز ہے۔ جے آئی ٹی اور پولیس کو سب پتہ ہے کہ قاتل کون ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے نہ صرف شناختی پریڈ کے لئے جانے سے انکار کیا، بلکہ وہ جے آئی ٹی کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔ کیونکہ جے آئی ٹی ان کے مقدمہ کو خراب کر رہی ہے۔ قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے بھی متاثرہ خاندانوں نے معاملے کی تحقیقات جے آئی ٹی کے بجائے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے جے آئی ٹی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کر دیا ہے۔ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کو تحلیل کرکے ساہیوال سانحہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ درخواست میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو فریق بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جے آئی ٹی پنجاب حکومت کی طرف سے بنائی گئی تھی۔ اس جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سید اعجاز شاہ ہیں۔
ادھر متاثرہ خاندانوں نے اپنا وکیل بھی تبدیل کر دیا ہے۔ یہ کیس سید شہباز بخاری ایڈووکیٹ لڑ رہے تھے۔ شہباز بخاری نے دعویٰ کیا تھا کہ کیس سے الگ ہونے کے لئے انہیں سی ٹی ڈی کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان دھمکیوں کے ثبوت کے طور پر شہباز بخاری نے صحافیوں کو ریکارڈ شدہ ایک کال بھی سنائی تھی۔ تاہم تحقیقات پر معلوم ہوا کہ یہ کال کسی سی ٹی ڈی اہلکار کی نہیں، بلکہ شہباز بخاری کے اپنے دوست کی تھی، جو ڈاکٹر ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے وکیل اس لئے تبدیل کیا ہے کہ ان کے خیال میں وکیل نے اپنی شہرت کے لئے اس قسم کی کہانی بنانے کی کوشش کی، جس سے کیس پر منفی اثرات پڑسکتے تھے، لہٰذا وکیل تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ’’امت ‘‘کے رابطہ کرنے پر مقتول خلیل کے سب سے چھوٹے بھائی کامران نے وکیل تبدیل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پرانے وکیل سے ان کا خاندان مطمئن نہیں تھا۔ کامران نے اس بات کی تائید بھی کی کہ وکیل بدلنے کے پیچھے ان کی طرف سے کیا جانے والا دھمکیوں کا دعویٰ ہے۔ ایک اور سوال پر کامران کا کہنا تھا کہ ’’فی الحال ہمیں انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن ایک مسلمان کے طور پر ہم لوگوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے اور اپنے وسائل کے مطابق انصاف کے حصول کے لئے کوششیں کر رہے ہیں‘‘۔
اس کیس سے وابستہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، جو نون لیگی حکومت کے وقت ماڈل ٹائون واقعہ کے حوالے سے ہوا تھا۔ جس پر آج کے وزیر اعظم عمران خان سخت چراغ پا تھے۔ لیکن اب ان کے دور حکومت میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود فارنسک لیبارٹری کو مکمل شواہد فراہم نہیں کئے جاسکے ہیں۔ جبکہ نامکمل شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھنا دشوار ہے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاں بحق افراد کے خلاف درج ایف آئی آر بھی اب تک خارج نہیں کی گئی۔ دوسری جانب ایڈیشنل ہوم سیکریٹری پنجاب تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی دھڑلے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی میں ذیشان دہشت گرد ثابت ہوگا۔ موصوف نے ان خیالات کا اظہار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کا سارا فوکس فی الحال فائرنگ کے ملزمان کو کٹہرے میں لانے کے بجائے ذیشان کو دہشت گرد ثابت کرنے پر ہے۔ اس سلسلے میں مقتول ذیشان کی زیر استعمال گاڑی کو فیصل آباد میں مارے گئے عدیل حفیظ کی ملکیت ثابت کرنے کی نئی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے بقول اس وقت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ صرف سینیٹ کی دو قائمہ کمیٹیاں کھڑی ہیں۔ لیکن ان قائمہ کمیٹیوں کے اختیارات سفارشات دینے سے زیادہ نہیں۔ ان میں سے سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کے سربراہ عبدالرحمٰن ملک ہیں، اور سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سربراہ مصطفی نواز کھوکھر کے پاس ہے۔ دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور ان قائمہ کمیٹیوں نے بھی جے آئی ٹی مسترد کرکے جوڈیشل کمیشن بنانے کی سفارش کی ہے۔
’’امت‘‘ نے مقتول ذیشان کے بھائی احتشام سے رابطہ کیا تو وہ بھی خاصے مایوس دکھائی دیئے۔ دھیمے لہجے میں احتشام کا کہنا تھا ’’پرانے ثبوت مٹاکر نئے ثبوت بنائے جارہے ہیں۔ تاکہ واقعہ کے ملزمان کو بچایا جاسکے۔ واقعہ میں نشانہ بننے والی گاڑی سے لے کر مقتولین کے موبائل فون تک سب پولیس کے پاس ہیں۔ ہمارے سننے میں آرہا ہے کہ مرضی کے شواہد کے لئے گاڑی کو بھی ٹیمپرڈ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح موبائل فونز میں بھی اب تک نہ جانے کیا کچھ کیا جا چکا ہوگا‘‘۔ احتشام نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ’’بھائی جان! آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ کچھ عرصہ گزرے گا، معطل کئے گئے پولیس والے بھی بحال ہوجائیں گے۔ ہم پولیس والوں میں ایک محاورہ بہت مشہور ہے کہ وہ پولیس والا ہی نہیں جو معطل نہ ہو۔ یعنی معطلی کسی بھی پولیس والے کے لئے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی، جلد یا بدیر اسے بحال ہوجانا ہوتا ہے‘‘۔
احتشام متاثرہ فیملیوں کے ان ارکان میں شامل تھے، جنہیں صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے لئے اسلام آباد بلایا گیا تھا، لیکن بے مراد لوٹا دیا گیا۔ اس حوالے سے احتشام نے بتایا کہ ان کے ہمراہ بوڑھی والدہ بھی تھیں اور وہ لوگ دو بار وفاقی دارالحکومت گئے۔ پہلی بار صبح کو گئے تو رات کو ڈیڑھ بجے واپسی ہوئی۔ سینیٹ کی عمارت کے گیٹ کے کچھ اندر پندرہ منٹ گزارے۔ کسی نے لفٹ نہیں کرائی اور اس کے بعد ڈھائی تین گھنٹے بوڑھی والدہ سمیت ایک پیٹرول پمپ پر بیٹھے انتظار کرتے رہے۔ رات گہری ہوگئی تو تھک ہارکر واپسی کی راہ لی۔ دوسری بار اسلام آباد گئے تو جب بھی صدر اور چیئرمین سینیٹ سے تو ملاقات کا موقع نہیں مل سکا، تاہم سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کے سربراہ عبدالرحمٰن ملک نے بلالیا۔ ان کے ساتھ کمیٹی کے دیگر ارکان بھی تھے۔ متاثرین کو انہوں نے انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد ہماری واپسی ہوگئی۔ احتشام نے بتایا کہ حمزہ شہباز سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنما صرف ایک بار متاثرین کے گھر پر آئے تھے، اس کے بعد پلٹ کر نہیں پوچھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے متعدد ارکان بھی آتے رہے اور تصاویر بنواکر چلے گئے۔ شاید انہیں اپنی پبلسٹی کے لئے یہ نیا موقع مل گیا ہے۔
احتشام چونکہ خود بھی ڈولفن پولیس کے اہلکار ہیں، لہٰذا پولیس کے تفتیشی نظام کو بخوبی جانتے ہیں۔ جلیل اور مقتول خلیل کے کمسن بیٹے عمیر کی جانب سے شناختی پریڈ کا حصہ نہ بننے کے حوالے سے احتشام کا کہنا تھا کہ ’’ساہیوال کے ہولناک واقعہ کے بعد سے چھوٹا بچہ تاحال صدمے کا شکار ہے۔ وہ واقعہ کا عینی شاہد ضرور ہے اور اس نے اپنے والدین کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن فائرنگ کرنے والے اہلکاروں نے اپنے منہ پر ماسک چڑھائے ہوئے تھے، لہٰذا عمیر اہلکاروں کی شناخت کیسے کرسکتا ہے؟‘‘۔ احتشام کے بقول شناختی پریڈ میں ملزمان کو پہچاننے کے لئے متاثرہ فیملی ارکان کو بلانا مضحکہ خیز عمل ہے۔ جب اہلکار کسی ڈیوٹی یا ریڈ پر جاتے ہیں تو اپنے نام اور دستخطوں کے ساتھ اسلحہ ایشو کراتے ہیں۔ لہٰذا ان کو ڈیوٹی پر بھیجنے والوں کو نہ صرف اہلکاروں کے نام معلوم ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ انہیں کس ساخت کا اسلحہ اور کتنی گولیاں فراہم کی گئیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ملزمان کو پہچاننے کے لئے شناختی پریڈ کی ضرورت ہے ، بالکل فضول بات ہے۔

Comments (0)
Add Comment