اردن کی 74 سالا ناخواندہ خاتون نے قرآن حفظ کر لیا

ضیاء الرحمٰن چترالی
بلاشبہ قرآن کریم نبی آخر الزماںؐ کا سب سے بڑا زندہ معجزہ ہے۔ سات برس کے بچے بھی اسے بہ آسانی یاد کر لیتے ہیں اور ستّر برس کے بوڑھوں کے دل میں بھی یہ کلام نقش ہو جاتا ہے۔ اردن سے تعلق رکھنے والی 74 سالہ انگوٹھا چھاپ خاتون نے قرآن کریم حفظ کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ عرب جریدے الشروق کی رپورٹ کے مطابق حاجیہ نورۃ الوردات کو بچپن سے کلام الٰہی سے عشق تھا۔ مگر گھریلو حالات اور نو عمری کی شادی کے باعث وہ حفظ کرنا تو دور کی بات، قرآن کریم کا ناظرہ اور اسکول کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہ کر سکیں۔ مگر عمر کے آخری حصے میں انہوں نے اپنے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی ٹھان لی اور خدا سے مدد حاصل کرتے ہوئے کلام الٰہی حفظ کرنا شروع کر دیا۔ نورۃ الوردات کو تیس پاروں کو حفظ مکمل کرنے میں سولہ برس لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’سارے بچوں کی شادی کے بعد جب مجھے فارغ وقت ملا تو میں نے حفظ قرآن کریم کے ادارے مرکز عمروۃ میں داخلہ لیا۔ اس دوران کئی مرتبہ شیطان نے بہکانے کی کوشش کی کہ یہ تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔ حفظ قرآن کریم بچپن میں ہوتا ہے۔ تم ابھی قبر میں پیر لٹکائے بیٹھی ہو۔ اس لئے اپنے آپ کو فضول میں تھکانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر میں نے شیطان کو ذلیل کرتے ہوئے اپنی محنت جاری رکھی۔ بالآخر وہ گھڑی آ ہی گئی، جسے میں اپنی زندگی کا سب سے پرمسرت لمحہ قرار دیتی ہوں‘‘۔ کچھ روز پہلے 74 سالہ نورہ کے لئے مرکز عمراہ میں ختم قرآن پاک اور آمین کی پُررونق تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں علاقے کے علمائے کرام، معمر حافظہ کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نورہ کا تعلق اردن کے صوبے اربد سے ہے۔ انہوں نے کلام الٰہی کو یاد کرنے میں ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں دو سال انہیں چھوٹی بچیوں کے ساتھ قاعدہ ناظرہ کی کلاس میں بٹھایا گیا۔ حروف کی ادائیگی اور مخارج کو سیکھنے کے بعد بارہ برس تک وہ حفظ قرآن کریم کی کلاس صبح و شام اٹینڈ کرتی رہیں۔ بڑھاپے کی وجہ سے اور حافظہ کمزور ہونے کے سبب انہیں ایک ایک سبق کئی کئی بار دہرانا پڑتا۔ پھر بھی وہ بھول جاتیں۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ یوں چودہ برس میں انہوں نے حفظ تو مکمل کرلیا۔ لیکن پھر گردان میں انہیں دو برس لگے۔ عموماً بچے ایک برس میں ہی گرادن مکمل کر دیتے ہیں۔ مگر حاجیہ نورہ کو حفظ پکا کرانے کے لئے مزید ایک سال اور لگانا پڑا۔ جب انہوں نے اپنی استانی شیخہ نعامہ فواز کو چار بار مکمل قرآن مجید سنا لیا تو انہیں ’’حافظہ‘‘ قرار دے کر سند سے نوازا گیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخہ نعامہ فواز کا کہنا تھا کہ حفظ قرآن کے لئے حاجیہ نورۃ الوردات نے قابل رشک استقامت کا مظاہرہ کیا۔ وہ لاٹھی کے سہارے روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کلاس میں حاضر ہوتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ خاتون اگرچہ اُمی یعنی اَن پڑھ ہیں۔ مگر یہ ان کی کلام الٰہی کے ساتھ عقیدت و محبت کا معجزہ ہے کہ اس عمر میں انہوں نے پورا قرآن حفظ کرلیا۔ شیخہ نعامہ نے بتایا کہ ’’جب حاجیہ نورہ میری کلاس میں داخل ہوئیں تو اس وقت ان کی عمر اٹھاون برس تھی۔ ابتدا میں مجھے عجیب سا لگا کہ اپنی ماں کی ہم عمر خاتون کو کیسے پڑھائوں اور کلاس کی دیگر بچیاں بھی اسے مذاق ہی سمجھتی رہیں۔ میں سمجھتی رہی کہ یہ چند روز بعد تھک کر گھر بیٹھ جائیں گی۔ مگر اس خاتون کا جذبہ دیکھ کر میں انہیں خصوصی اہمیت دینے لگی اور کلاس کی سینئر طالبات نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ملک کی سب سے معمر حافظہ ہمارے مرکز سے سند فراغت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خاتون کی استقامت اور مستقل مزاجی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ سولہ برس مسلسل کلاس کے ایک ہی گوشے میں صبح شام کلام الٰہی کی تحفیظ میں مستغرق رہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حاجیہ نورہ حافظہ ہونے کے باوجود قرآن کا ناظرہ یعنی دیکھ کر نہیں پڑھ سکتیں۔ انہوں نے تھوڑا تھوڑا کر کے صرف سن سن کر یاد کیا ہے۔ وہ اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتیں اور نہ انہیں حروف کی کوئی پہچان ہے۔ مگر پورا قرآن کریم انہیں اتنا پکا یاد ہے کہ کہیں سے بھی پڑھنا شروع کردیں تو کسی متشابہ آیت میں بھی وہ اٹکتی نہیں ہیں۔

Comments (0)
Add Comment