پاکستان نے تین برس میں جے ایف 17 بناکر تاریخ رقم کی

جے ایف 17 کا نام چین کی مشاورت سے رکھا گیا
سابق ایئر مارشل شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ یہ ایک کاپی پروجیکٹ تھا۔ ایک جہاز کی بہتر نقل بنانی تھی۔ لیکن جب اس پر کام شروع کیا تو یہ جہاز ہی بالکل مختلف اور نیا بن گیا۔ جو ہر لحاظ سے منفرد تھا۔ میں نے چینیوں سے کہا کہ یہ سپر سیون نہیں ہے۔ یہ ایک نیا جہاز ہے۔ اس کا نام بھی نیا ہی ہونا چاہئے۔ وہ میری بات سے متفق تھے۔ جب انہوں نے میری تائید کی تو میں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ اسے F-17 کیوں نہ کہا جائے۔ اس وقت امریکہ F-16 بنا چکا تھا۔ اس کا F-18 بھی آچکا تھا۔ بیچ میں F-17 کی جگہ خالی تھی۔ سو اس نے پوری کر دی۔ اس کا نام F-17 رکھ دیا گیا۔ اس بات کے ہفتہ بھر بعد چینی دوستوں کا فون آیا کہ ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ اس میں لفظ ’’J‘‘ بھی لگا لیا جائے۔ یہ دو دوست ملکوں کی کاوش ہے تو اسے JOINT F-17 یعنی JF-17 کہا جائے۔ اور یہی اس کا آفیشل نام بھی ہوگیا۔ ٭

فائٹر جیٹ کیلئے ایل او سی 30 سیکنڈ کا فاصلہ ہے
شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ بالا کوٹ تک آنا بڑی بات نہیں۔ فائٹر جیٹ کے لئے یہ ایل او سی سے تیس سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ انہوں نے بہاولپور اور دیگر جگہوں سے جہاز اڑائے۔ جب ریڈار میں ان کے بہت سارے جہاز اڑتے دکھائی دیئے تو ہمارے جہازوں نے ان کا پیچھا کیا۔ انہوں نے ہمیں پیچھا لگایا اور آخر میں بالاکوٹ کا رخ کیا۔ ہمارے جہاز بھی ان کے پیچھے لپکے۔ جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ پاکستانی فائٹر air born ہو گئے ہیں تو وہ اپنا سامان پھینک کر فرار ہو گئے۔

اسرائیلی پائلٹس پاکستانی ہوا بازوں سے خوفزدہ تھے
ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف وہ پہلے پاکستانی فائٹر پائلٹ ہیں، جو امریکی ایف سولہ طیارہ اڑا کر پاکستان لائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم چھ پائلٹ ایف سولہ کی پرواز کی تربیت لینے کے لئے امریکہ گئے تھے۔ یہ تربیتی کورس ایک برس کا تھا۔ لیکن ہم نے پانچ ماہ میں ہی مکمل کر لیا اور مہارت حاصل کرکے امریکیوں کو حیران کر دیا۔ ہمیں وہاں تربیت کے دوران اسرائیل ائیر فورس کے پائلٹس کی موجودگی کا بھی پتہ چلا۔
جو چھ ماہ سے تربیت لے رہے تھے۔ یہ بات خفیہ رکھی گئی تھی۔ ہم صبح کے وقت فلائنگ کرتے تھے اور وہ شام کے وقت۔ ایک روز ہفتہ وار تعطیل کے دن انسٹرکٹر کو میں نے کہا کہ، ہماری ان کے ساتھ فلائنگ تو کروائیں۔ ذرا پتہ چل جائے کون کتنے پانی میں ہے۔ حالانکہ اس وقت انہیں تربیت لیتے ہوئے چھ ماہ ہو چکے تھے۔ وہ دو تین سو گھنٹے پرواز کر چکے تھے اور ہم بمشکل بارہ پندرہ گھنٹے ہی پرواز کرسکے تھے۔ اس پر انسٹرکٹر نے کہا، سخت ہدایات ہیں کہ ہمارے پائلٹ کبھی پاکستانیوں کے سامنے بھی نہ آئیں۔ ساتھ فلائنگ کی تو بات ہی نہ کرو۔ انہیں کوئی خوف تھا تو انہوں نے یہ ہدایات دے رکھی تھیں۔ ہمارے انسٹرکٹر کہتے تھے کہ ان اسرائیلیوں کو تمہارے عربوں نے ہیرو بنا رکھا ہے۔ پاکستانی پائلٹس کا معیار ہی کچھ اور ہے۔

احسان کوہاٹی
’’میں نے اپنے بے بی کو دشمن کا لحاظ کرنا سکھایا ہی نہیں ہے۔ اسے ایسے گر سکھائے ہیں کہ سامنے آنے والے کو کاک پٹ میں لگ پتہ جائے کہ سامنا کس سے ہوا ہے‘‘۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کے لبوں پر وہی فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ جو اکھاڑے میں مد مقابل کو دھول چٹانے والے پہلوان کے لبوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس مسکراہٹ کا ماخذ ان کے آراستہ مہمان خانے میں راقم کا ستائیس فروری کے معرکۂ کشمیر کے تناظر میںکہا گیا یہ جملہ تھا کہ آپ کے ’’بے بی‘‘ نے پڑوس کے بزرگ مگ اکیس کا ذرا بھی لحاظ نہ کیا۔
ساہیوال کے ایک متوسط اور غیر فوجی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے شاہد لطیف نے اپریل 1974ء میں پاک فضائیہ میں بحیثیت لڑاکا ہوا باز میں کمیشن اس طرح حاصل کیا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بہترین کیڈٹ کی اعزازی شمشیر ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ رسالپور اکیڈمی میں بہترین کیڈٹ پائلٹ ثابت ہوئے تھے۔ پھر بعد میں پاک فضائیہ کے قابل فخر پائلٹ رہے اور شاندار کیریئر کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے کرتے ایئر مارشل کے عہدے تک پہنچے۔ وہ پاک فضائیہ کے نائب سربراہ بھی رہے۔ شاہد لطیف ان چھ پاکستانی پائلٹوں میں سے بھی ہیں۔ جنہیں ایف سولہ کی تربیت کے لئے امریکہ بھیجا گیا اور جو ایک سال کی تربیت پانچ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے ایف سولہ اڑا کر لے کر آئے۔ ایئر مارشل کا سب سے بڑا کارنامہ جے ایف تھنڈر کی تیاری ہے۔ یہ اس پروجیکٹ کے پہلے چیف ڈائریکٹر بھی تھے اور اسی لئے یہ اس طیارے کو پیار سے اپنا بے بی بھی کہتے ہیں۔ ان کی اس ’’بے بی‘‘ کی کہانی انہی کی زبانی سنئے۔
٭٭٭
’’یہ انیس سو نوے کی بات ہے۔ جب امریکہ نے پریسلر ترمیم کے تحت ہم پر پابندیاں لگا دیں۔ افغان جنگ تک تو وہ ہماری دفاعی ضروریات مجبوراً پوری کر رہا تھا۔ اس نے ہمیں ایف سولہ بھی دیئے اور ان کی کی مرمت، پرزہ جات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی پوری کرتا رہا۔ اور یہ ذمہ داری اس وقت تک نبھاتا رہا۔ جب تک افغانستان میں اسے ہماری ضرورت رہی۔ جب پاکستان کی مدد سے افغانوں نے روس کو نکال باہر کیا تو امریکہ نے بھی ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں۔ یہ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے کہ دوست اور دشمن نہیں مفاد مستقل ہوتا ہے۔ وقت پڑنے پر مفاد کے لئے دوست بھی بدلے جا سکتے ہیں اور دشمن کو بھی گلے لگایا جا سکتا ہے۔ پریسلر ترمیم کی پابندیوں کا جواز یہ بنایا گیا کہ ہمارا صدر اب آپ کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لئے محفوظ نہیں سمجھتا۔ وہ سرٹیفکٹ دستخط نہیں کر رہا تو ہم بھی اب فوجی امداد نہیں دیں گے۔ پابندیاں لگیں تو پاک فضائیہ کا سخت وقت شروع ہو گیا۔ پاکستان میں طیارہ سازی کی کوئی صنعت نہیں تھی۔ ہم تو جہاز کیا جہاز کا کاک پٹ بھی نہیں بناتے تھے۔ امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔ حالت یہ ہو گئی کہ ایف سولہ اڑانا مشکل ہو گیا۔ پائلٹس کو ہر دم تیار رہنے کے لئے ماہانہ کچھ flying hours درکار ہوتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے پائلٹ وہ لازمی اڑان کے گھنٹے بھی پورے کر نے سے رہ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم نے سوچا کہ اگر کبھی بھارت سے جنگ چھڑ گئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ تب ہم نے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا کہ ہم کب تک دوسروں کے دست نگر رہیں گے۔ اس پر غور ہوتا رہا۔ ٹاپ لیول پر بات ہوتی رہی۔ پھر 1999ء میں چین سے معاہدے پر دستخط بھی ہوگئے اور ابتدائی کام بھی شروع ہو گیا۔ معاہدے کے تحت ہم ایف سیون کو اپ گریڈ کر کے سپر سیون بنانا چاہتے تھے۔ ایف سیون دراصل روسی طیارہ مگ اکیس ہی ہے۔ اسے چین نے کاپی کر کے ایف سیون کر دیا تھا اور ہم اسے ’’سپر سیون‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ یہ لڑاکا طیارہ چین میں پاکستان کی معاونت سے تیار ہونا تھا۔ اور یہ کیسے ہونا تھا میں اس وقت اس سے تقریباً لاعلم تھا۔ بس یہ پتہ تھا کہ پاکستان ایئر فورس مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ پائلٹس کے لئے flying hours پورے کرنا مشکل ہو رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس ایف سولہ کو چھوڑ کر دیگر جتنے بھی جہاز تھے بڑے پرانے تھے۔ سچی بات ہے یہ جہاز دوست ممالک نے گراؤنڈ کر دیئے تھے۔ سمجھ لیں کہ کباڑ میں ڈال دیئے تھے۔ اور ہم اسے یہاں لا کر نئے سرے سے مرمت کر کے اڑنے کے قابل بناتے تھے۔ یہ ہمار ے انجینئرز کا ہنر اور پائلٹس کا کمال تھا جو انہیں اڑاتے تھے۔
ایئر فورس پر وہ وقت واقعی کڑا تھا اور اس مشکل وقت میں، میں بحیثیت ایئر کموڈور بیس کامرہ کی کمان کر رہا تھا۔ بحیثیت بیس کمانڈر ہر افسر کو دو سال پورے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ 2001ء کی بات ہے۔ ایئر مارشل مصحف علی میر نے ایئر فورس کی تازہ تازہ کمان سنبھالی تھی۔ یہ میرے فلائنگ انسٹرکٹر بھی رہ چکے تھے۔ اور میں ان کے شاگردوں میں واحد فائٹر تھا جس نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ گھر کے بچھڑے کے کوئی دانت نہیں گنتا۔ تو یہ مجھ سے بحیثیت استاد خوب واقف تھے۔ انہیں فورس کی کمان سنبھالے دو تین ماہ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے کال وصول کی۔ دوسری جانب سے بتایا گیا کہ ایئر چیف آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں توچونک گیا۔ اور ساتھ ہی کچھ پریشان بھی ہوا کہ اللہ خیر کرے۔ کچھ غلط نہ ہوگیا ہو۔
دوسری طرف سے ایئر چیف لائن پر آئے اور حال احوال پوچھ کر کہنے لگے: ’’شاہد یہ بتاؤ۔ تمہارا سال کب پورا ہو رہا ہے‘‘۔
میں نے انہیں بتا دیا کہ سر! فلاں تاریخ کو بحیثیت بیس کمانڈر مجھے دو سال ہوجائیں گے۔
یہ سن کر کہنے لگے: ’’میں تمہیں سال پورے ہونے کے بعد ایک دن بھی نہ رکنے دوں گا‘‘۔
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر ایئر چیف صاحب کہنے لگے۔ ’’میں تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تم فلائٹ کیڈٹ شاہد لطیف تھے۔ اب تم ایئر کموڈور اور میں ایئر چیف ہوں۔ کیا میں تم پر اعتماد کر سکتا ہوں؟‘‘۔
میں نے کہا۔ حکم کریں سر! میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔
اس پر ان کی آواز آئی۔ ’’میں تمہیں سپر سیون کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنانا چاہتا ہوں۔ کیا تم مجھے ایف سولہ بنا کر دے سکتے ہو۔ مجھے ایف سولہ سے کم نہیں چاہئے؟‘‘۔
میں نے کہا سر! آپ کو ایف سولہ سے کم نہیں چاہئے تو ایک ایف سولہ کا پائلٹ ایف سولہ سے کم پر راضی بھی نہیں ہوگا۔ آپ نے ایسا سوچ ہی لیا ہے تو میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔
اس پر ایئر چیف کہنے لگے۔ ’’دیکھو شاہد! تم اسی کے ساتھ تیرو گے بھی اور اسی کے ساتھ ڈوبو گے۔ یہ بنا لو گے تو تیر جاؤ گے اور بہت آگے جاؤ گے۔ میں تمہیں جہاں تک لے جا سکا لے جاؤں گا۔ اور اگر ناکام ہوئے تو ڈوب جاؤ گے۔ پھر بچنا مشکل ہے۔ دوسری بات یہ کہ میرا ایئر کرافٹ مینو فیکچرنگ کا کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی پاکستان میں کوئی جانتا ہے۔ یہ تو چینی ہی ہیں جو سب کرتے ہیں۔ میں تمہاری کسی غلطی کی نشاندہی کرسکوں گا اور نہ ہی کچھ بتا سکوں گا۔ سب کچھ تم نے ہی کرنا ہے۔ over to you‘‘۔
یہ ایئر چیف صاحب کی مختصر بریفنگ تھی۔ جس پر وہ آخر دم تک قائم رہے۔ میں نے پروجیکٹ شروع کیا اور انہیں بریفنگ دینے گیا تو وہ کہنے لگے۔ ’’مجھے بریفنگ مت کرو۔ مجھے نتیجہ چاہئے نتیجہ‘‘۔
انہوں نے مجھ پر اندھا اعتماد کیا۔ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیا۔ میں نے چیف پروجیکٹ بنتے ہی سپر سیون کی ڈرائنگ اٹھا کر باہر پھینک دی اور کہا، سپر سیون نہیں نیا جہاز بنانا ہے۔ میرا ایف سوالہ سے پرانا ساتھ تھا۔ میں اس مشین کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ میں ویسا نہیں اس سے بھی بہتر جہاز بنانا چاہتا تھا۔ یہی مجھے ٹاسک دیا گیا تھا۔ ہم نے یہ پروجیکٹ ڈرائنگ بورڈ سے شروع کیا۔ ہم نے چینیوں کے ساتھ مل کر جہاز کا نقشہ بنایا۔ میں ان کی راہنمائی کرتا رہا۔ جس کے مطابق جہاز کی ڈرائنگ بننی شروع ہوئی اور پھر دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہونے چلا۔ ایک باقاعدہ لڑاکا فضائی فورس نے ایک کمرشل کمپنی چینگ دو ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ کے ساتھ مل کر جنگی طیارہ بنانا شروع کر دیا۔ دنیا میں امریکی، اسرائیلی، انگلش ایئر فورس سمیت کوئی بھی فورس خود طیارے نہیں بناتی۔ وہ صرف اپنی ضروریات بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ چیز چاہئے۔ اور اس ملک کے ادارے انہیں وہ چیز بنا کر دیتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ تھا۔ ہم خود جہاز بنانے جا رہے تھے۔ اور جن سے بنوا رہے تھے ان کے پاس بھی ایسا تجربہ نہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ چین جہاز بناتا تھا۔ لیکن وہ دراصل کاپی ہوتے تھے۔ یہاں میرا واسطہ چین کے ایک کمرشل ادارے کے ہنرمندوں سے تھا۔ بڑا ہی مشکل کام تھا۔ میں طیارے کے معیار کی بات کرتا اور وہ کمرشل بات کرتے۔ وہ کہتے کہ تم کر کیا رہے ہو؟ گاڑی چل پڑی ہے تو بس چلنے دو۔ روکنے سے ہمیں نقصان ہے۔ اور میں انہیں کہتا، یہ چیز ٹھیک نہیں ہے۔ اسے ٹھیک کرو۔ اسے بہتر بناؤ۔ دراصل مسئلہ یہ تھا کہ چین کے پاس بھی وہ ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ میں ایک طرح سے ان کا کام بڑھادیتا تھا۔ جس سے انہیں ناخوش ہی ہونا چاہئے تھا۔ ہم ہر تین ماہ بعد چین جاتے۔ پروجیکٹ کا معائنہ کرتے۔ اور اس دورے میں اکثر ہی تلخ کلامی ہوجاتی۔ پھر میں نے چینیوں کی نفسیات پڑھنا شروع کی۔ ان کے بارے میں مطالعہ کیا کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ ان کی اقدار کیا ہیں۔ یہ مطالعہ میرے بہت کام آیا۔ میں ان کے ساتھ گھل مل گیا۔ میں ان کی فیکٹری میں جاتا تو وہیں ان کے ورکروں کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ ایسا بھی ہوا کہ رات ہوئی اور میں نے وہیں فیکٹری میں بستر لگا لیا۔
میرا ہدف تھا کہ تین سال میں یہ جہاز آسمان پر اڑتا دکھائی دے۔ یہ بظاہر ناممکن تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ڈیزائننگ سے فلائنگ تک ایسے پروجیکٹ دس سے پندرہ سال لے لیتے ہیں۔ اور ہم یہ کام تین برسوں میں کرنے چلے تھے۔ پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا۔ ہمارے بارے میں مغربی ممالک نے کہنا شروع کر دیا کہ چین اور پاکستان کو کیا پتہ جنگی جہاز کیسے بنتا ہے۔ ان کے بنے ہوئے جہاز کاغذی جہازوں کی طرح گرا کریں گے۔ ان ہی دنوں بھارت کے فائٹر جیٹ تیجا کی بھی خبریں آنے لگیں۔ بھارت نے اس پر کام کی رفتار تیز کر دی۔ تیجا کا پروجیکٹ ہم سے نو برس پرانا تھا۔ اور اسے بھارت کے چوبیس اداروں کا تعاون بھی حاصل تھا۔ انہیں جہاز بنانے کا تجربہ بھی تھا۔ اور ادھر تجربہ کیا ہونا تھا ہم نے تو قدم ہی ابھی اٹھایا تھا۔ میں چینیوں کو تیجا سے مقابلے پر لے آیا۔ وہ کہتے، آپ ہمیں جگہ جگہ روک رہے ہو۔ وہ دیکھو انڈیا کا تیجا تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔ وہ ہم سے پہلے بن گیا تو ہمارا فائٹر کون خریدے گا؟ اور میں انہیں کہتا کہ دیکھو۔ اگر ہمارے طیارے کے بارے میں تاثر عام ہو گیا کہ یہ پائلٹ اور رقم ڈبو دے گا تو اسے کون خریدے گا؟ چیز ایسی بناؤ کہ جو دیکھے دیکھتا رہ جائے۔ جو ثابت کر دے کہ ہاں میں ہوں۔ تو اس طرح میں انہیں پیار سے، پچکار کر، کبھی ناراضگی کا اظہار کر کے اور کبھی شاباشی دے کر کام کراتا چلا گیا۔
مجھے پریشانی یہ تھی کہ ہمارے جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب تھی۔ میرے پاس وقت بہت کم اور نپا تلا تھا۔ میں نے2001ء میں ہی اپنے جہازوں کا سارا شیڈول بنا لیا تھا۔ مجھے ایک ایک جہاز کا پتہ تھا کہ وہ کب ریٹائر ہو رہا ہے۔ مجھے یہ بھی علم تھا کہ ریٹائر ہونے والے جہاز کا ہینگر خالی رہے گا۔ دنیا ہمیں جہاز نہیں دے گی۔ امریکیوں کا رویہ ہمارے سامنے تھا۔ ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے۔ ہم اردن اور آسٹریلیاکے کنڈم میراج طیارے لے کر آتے اور انہیں قابل استعمال بناتے۔ یہ بہت بڑا رسک تھا۔ پائلٹوں کی زندگی کے لئے بھی خطرہ تھا۔ لیکن ہم کیا کرتے۔ ہمارے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ دنیا نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہماری ایئر پاور نہیں بڑھانے دے گی۔ وہ ہمیں جہاز نہیں دے گی۔ اور یہیں سے میرا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے رابطہ ہوا۔ میں ان کی خوبیوں خامیوں کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں ان سے براہ راست رابطے میں آچکا تھا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ایئر فورس ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے تو انہوں نے مجھے بلا لیا۔ ان سے ایئر چیف نے میرا ذکر کر دیا تھا کہ سر! یہ میرا شاگرد بھی رہا ہے اور یہ ہمیں نیا جہاز بنادے گا۔ مجھے سو فیصد یقین ہے۔ میں مشرف صاحب سے ملنے گیا۔ اکیلے کمرے میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ اپنا بیک گراؤنڈ بتاؤ۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ مصحف نے تمہیں اپنا شاگرد ہونے کی وجہ سے اس پروجیکٹ کا چیف ڈائریکٹر بنادیا؟۔ میں نے عرض کیا۔ سر! مصحف صاحبب میرے فلائنگ انسٹرکٹر تو تھے۔ میں ان کا شاگرد بھی تھا۔ لیکن مجھے اعزازی شمشیر ان کی سفارش پر یا بھائی بندی پر تو نہیں مل سکتی تھی۔ وہ تو صرف میری فلائنگ دیکھ رہے تھے۔ اعزازی شمشیر تو کیڈٹ کی پوری کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ میں wing under officerبھی تھا۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ کہنے لگے ’’یار! بات تو تم ٹھیک کہتے ہو۔ تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم میں کچھ ہے۔ اچھا، ادھر تو تم نے مصحف کو کہہ دیا کہ جہاز بنادوں گا۔ کیا واقعی ایسا کر لوگے؟ یہ کہہ کر وہ مجھے صورتحال سے آگاہ کرنے لگے۔ ان کے الفاظ تھے کہ، میں جیب میں پیسے لے کر پھرتا ہوں، میں جہازکا نام لیتا ہوں ناں، کوئی ہمیں دینے کو تیار نہیں۔
یہ وہ وقت تھا جب ہمارے اسکواڈرنز میں صرف پرانے میراج ایف سکس اور اے فائیو جیسے طیارے تھے۔ لے دے کر ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے۔ جن کے لئے ہم مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔ جب امریکہ چاہتا ان کے سامان کی سپلائی، مرمت روک دیتا۔ اس وقت دنیا پر AIR WAR کی اہمیت بہت کھل کر واضح ہو چکی تھی۔ وہ ہمیں طاقتور نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنی ایئر فورس سے تباہی پھیر دی تھی۔ اس لئے دنیا نے ایکا کر لیا تھا کہ ہمیں جہاز نہیں دینا۔ اور حالت یہ تھی کہ جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب آتی جارہی تھی۔
میں نے حساب کتاب کیا تو سر پکڑ بیٹھ گیا۔ تین برسوں میں نئے جہاز نہ آتے تو ہمیں اپنے اسکواڈرن بند کرنے پڑجاتے۔ اور یہ کسی بھی ایئر فورس کے لئے موت تھی۔ میرے لئے 2003ء میں ہر حال میں اپنا جہاز Air Born کرنا تھا۔ اور ایسا نہ ہوتا تو یہ ہماری موت تھی۔ ان حالات میں ہم نے جان مار کر کام شروع کر دیا۔ چینیوں کی دن رات کی شفٹیں لگا دیں۔ حالانکہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ میں ان کا مزاج، رویہ سمجھ چکا تھا۔ ان سے برتاؤ کرنا آگیا تھا۔ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ چینیوں کے ساتھ کیسے کام کرنا ہے۔ ایسا اکثر ہوتا کہ بات چیت ہوتی تو محفل اتنی گرم ہو جاتی، اتنیheat ہو جاتی کہ سمجھیں جھگڑا ابھی ہوا تو ابھی ہوا۔ لیکن جب بات چیت ختم ہوتی تو میں انہیں گلے لگا کر تین لفظ کہتا۔ We are friend۔ بس یہ کہنا ہوتا کہ وہ کہتے، آپ کو جو چاہئے ہم سے لے لو۔ جو بات تین تین گھنٹوں کی بحث میں نہ مانتے۔ وہ ذرا سی مسکراہٹ سے، نرمی سے مان جاتے۔ اس طرح دن رات کی محنت سے یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا رہا۔ میرے ذہن میں ایف سولہ تھا۔ چونکہ میں نے اسے آپریٹ کیا ہوا تھا۔ اس سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس لئے میں اسے اسی معیار پر بلکہ اس سے بہتر بنانا چاہتا تھا۔ اور بار بار اسی کی مثال دیتا کہ ہمیں یہ چیز ایسی چاہئے اور یہ ایسی چاہئے۔ ادھر امریکہ کو تشویش شروع ہو گئی۔ انہیں انٹیلی جنس رپورٹیں ملنا شروع ہو چکی تھیں۔ انہوں نے یہ پروجیکٹ ناکام بنانے کے لئے حربے اختیار کرنا شروع کر دیئے۔
مجھے یاد ہے اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں۔ وہ مجھے کسی بھی تقریب میں دیکھتیں تو ایک طرف لے جاتیں اور کہتیں۔ تم بچ کر رہنا۔ ہم تمہیں سیٹلائٹ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر تم نے ہمارا نٹ بولٹ بھی چینیوںکو دکھایا تو مثال عبرت بنا دیں گے۔ پھر مجھ پر طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے۔ عورت اور دولت کے جال پھینکے گئے۔ میرے اردگرد لوگ ڈالروں سے بھرے بریف کیس لے کر پھرتے رہتے۔ لیکن الحمد للہ۔ اللہ نے مجھے ہر جال اور ہر چال سے بچایا۔ پروجیکٹ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ستمبر 2003ء میں وہ وقت بھی آگیا۔ جب چنگ دو چین کے رن وے پر F-17 نے دوڑنا شروع کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں بلند ہوگیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہم ایک دوسرے سے والہانہ انداز میں گلے لگ رہے تھے۔ مبارک بادیں دے رہے تھے۔ انہیں خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم نے کیا کر دیا ہے۔ تین سال کی قلیل مدت میں ایک لڑاکا طیارہ فضا میں پہنچا دیا ہے۔ یہ پچیس منٹ کی پروٹو ٹائپ فلائٹ تھی۔ جس میں پائلٹ ایک ایک موومنٹ بتا رہا تھا۔ اس کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا تھا۔ اور ہمارے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ لبوں پر دعائیں تھیں کہ اے رب العالمین، ہماری عزت رکھنا۔ اور پھر اس دن بھی اللہ نے ہماری عزت رکھی اور ستائیس فروری کی صبح دس بج کر ساڑھے نو بجے بھی اللہ نے دشمن کے دل میں ہماری ہیبت ڈال دی۔ جے ایف سترہ کا سامنا بہترین روسی فائٹر جیٹ سوخوئی 30 اور مگ اکیس سے تھا۔ الحمدللہ ایف سترہ نے دونوں کو دھول چٹا کر اپنی ہیبت بٹھا دی۔ ثابت کر دیا کہ یہ فورتھ جنریشن کا بہترین لڑاکا طیارہ ہے۔ اور تعریف وہ ہوتی ہے جو دوسرا کرے۔ آج دنیا جو کہہ رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جو ہماری سوچ تھی۔ جو ہمارا خیال تھا۔ ایف سترہ اس سے بھی بہتر بنا ہے۔ ہم نے اسے گلاس کاک پٹ کے طور پر بنایا۔ کاک پٹ میں ہر چیز ڈیجیٹل ہے۔ اس کے میزائلوں کی مار ایف سولہ کے میزائل سے زیادہ ہے۔ اس کے بی وی آر کی رینج بھی ایف سولہ کے بی وی آر سے زیادہ ہے۔ اس کے ریڈار کی کارکردگی ایف سولہ سے بہتر نہیں بہت بہتر ہے۔ آج مجھے اپنے بے بی پر فخر ہے‘‘۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment