کینیڈا میں بھنگ پی کر ’’اچھی ماں‘‘ بننے کی مہم تیز

سدھارتھ شری واستو
کینیڈا میں بھنگ پی کر ’’اچھی ماں‘‘ بننے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ بھنگ کے نشے کی عادی کینیڈین خواتین نے سماجی رابطوں کی سائیٹس پر ایک مہم میں یہ دعویٰ کرکے سب کو حیران کردیا ہے کہ بھنگ پینے والی خواتین ’’بہترین مائیں‘‘ ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کسی خاتون کو ’’اچھی ماں‘‘ کا مرتبہ اور بھرپور مامتا حاصل کرنی ہو تو اس کو چاہئے کہ فوری طور پر بھنگ کا استعمال شروع کردے۔ بھنگ کے استعمال کی ترغیب دلانے والی کینیڈین خواتین/ مائوں کے گروپ نے یہ حیران کن دعویٰ بھی کیا ہے کہ بھنگ کا استعمال ان کے اندر چستی اور ہوشیاری پیدا کرے گا۔ بھنگ کی سگریٹس کے سوٹے ان کی دماغی کیفیت کو بھی بہتر بنائیں گے، جس کے نتیجے میں ان کے اندر مامتا پھوٹ پڑے گی اور وہ اپنی اولاد اور اہل خانہ کی بہترین پرورش اور خبر گیری کرنے لگیں گی۔ بھنگ کی طرفدار خواتین کا دعویٰ ہے کہ بھنگ کوئی کیمیائی مادہ نہیں ہے، یہ ایک نباتات اور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اگر کسی کو سر درد ہے یا ڈپریشن بڑھ رہا ہے یا طبیعت چڑچڑی ہورہی ہے تو بھنگ کے چند سوٹے ہی تمام مسائل کیلئے کافی ہیں۔ خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرز کی تجویز کردہ کیمیکل والی ادویات کی نسبت وہ بھنگ کا استعمال بہتر سمجھتی ہیں۔ دوسری جانب کینیڈین وزارت صحت نے ایک سرکلر میں تمام مائوں اور حاملہ خواتین کو متنبہ کیا ہے کہ بھنگ کا استعمال تمباکو نوشی اور نشے کی عادت بڑھا سکتا ہے۔ اس لئے بچوں کی نگہداشت اور تربیت میں کمی کے مسائل سے بچائو کا بہترین حل یہ ہے کہ بھنگ اور اس کی تمام مصنوعات سے پرہیز کیا جائے۔ جبکہ بھنگ کے استعمال کی بھرپور وکالت کرنے والی ہزاروں کینیڈین خواتین facebook پر ’’پھول میرے دوست‘‘ اور ’’میری مادر‘‘ جیسے گروپس کی شکل میں متحرک ہیں۔ ان گروپوں کی بیشتر خواتین ورکنگ ویمن ہیں اور ان کا تعلق ماڈلنگ، فوٹوگرافی، نجی کمپنیوں اور کنسلٹنسی فرمز سےبتایا گیا ہے، جو بھنگ پی کر گھر سے دفتر کیلئے نکلتی ہیں اور واپس گھر میں گھستی ہیں تو بھنگ سے لطف اندوز ہوکر۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جو لذت انہیں بھنگ کے استعمال سے ملی، کہیں اور نہیں ملی، یہ بڑا خوشگوار تجربہ تھا، جس کو وہ پہلے کینیڈین اور پھر عالمی سطح پر مائوں سے شیئر کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کی مامتا کو اُجاگر کرنے کیلئے ملک گیر مہم کا آغاز کررہی ہیں، جس میں سماجی رویوں کی تبدیلی اور بھنگ کے حوالے سے عمومی منفی جذبات کو رفع کرنے کا کام کیا جائے گا۔ دوسری جانب بھنگ سے الرجک اور اس کو گھٹیا قسم کا نشہ قرار دینے والی خواتین نے سوال کیا ہے کہ اگر بھنگ پی کر اچھی ماں بننے کا فارمولا واقعی اثر دار ہوتا تو یقیناً ہمارے آبا و اجداد ضرور بھنگ سے استفادہ کرتے۔ بھنگ مخالف خواتین نے کینیڈین خواتین کے دو بڑے گروپوں کی جانب سے بھنگ پی کر ’’اچھی ماں‘‘ بننے کے دعوے کو بھنگ فروخت کرنے والی کمپنیوں کی سستی مارکیٹنگ اور اوچھا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ بھنگ مخالف گروپ کی ایک رہنما، ڈیبرا اسٹیفنی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر 2018ء میں جب سے کینیڈا میں امریکہ کی طرز پر بھنگ کے استعمال کو قانونی قرار دیا گیا ہے، اس وقت سے معاشرے میں بھنگ کے منفی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ بھنگ کی مصنوعات پروسس کرنے اور مارکیٹ میں بیچنے والی کمپنیوں کا منافع اور حکومت کا ٹیکس مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈیبرا کا استدلال ہے کہ بھنگ کے بارے میں یہ بات پہلے ہی ذہنوں میں موجود ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے بندہ نشے کا عادی ہوجاتا ہے، اس کے قویٰ مضمحل اور دماغ سن ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں بھنگ کی عاشق خواتین کا یہ دعویٰ بڑا عجیب ہے کہ بھنگ کا استعمال اس قدر بہترین نتائج لاتا ہے کہ وہ اچھی ماں بن جاتی ہیں اور بچوں کی زیادہ اچھی طرح دیکھ بھال کرتی ہیں۔ سی ٹی وی نیوز کینیڈا سے گفتگو میں بھنگ کی عادی 30 سالہ خاتون جورڈانا زابلنسکی نے دعویٰ کیا کہ بھنگ کے استعمال نے انہیں بڑا اعتماد بخشا ہے، کیونکہ ماضی میں وہ چرس وغیرہ پیتی تھیں تو ان کو بچوں اور شوہر کی جانب سے عجیب نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اورگھر سمیت خاندان میں انہیں شرمندگی ہوتی تھی۔ لیکن اب بھنگ کے استعمال سے شرمندگی نہیں ہوتی اور وہ کہہ سکتی ہیں کہ بھنگ کا استعمال واقعی ’’اچھی ماں‘‘ بناتا ہے۔ جبکہ بھنگ مخالف خواتین کا کہنا ہے کہ وہ بھنگ کے بغیر ہی اپنے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت کا کام بہتر انداز میں کررہی ہیں۔
کینیڈین جریدے، ڈیلی گلوب اینڈ میل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک عمومی خیال یہی ہے کہ بھنگ کا نشہ کرنے والی خواتین ہر وقت ٹن رہتی ہیں اور اپنے شوہر یا بچوں کی دیکھ بھال تو ایک طرف خود اپنی دیکھ بھال نہیں کرسکتیں۔ لیکن facebook سمیت دیگر سماجی رابطوں کی سائیٹس پر فعال بھنگ کی عاشق خواتین کے دو بڑے گروپوں نے کینیڈین خواتین کو چیلنج کیا ہے کہ جب سے انہوں نے بھنگ کا استعمال شروع کیا ہے، ان کے خاندانی اور سماجی رابطوں اور برتائو میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ وہ خود کو اپنے بچوں کے ساتھ رویوں میں بہت اچھا محسوس کررہی ہیں۔ بھنگ کی حامی خواتین کی ترجمان، کیرن سپیر کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم کینیڈین خواتین کو بتائیں کہ وہ بھنگ کا کم از کم ایک بار ضروراستعمال کریں کیوں کہ اس کے اثرات خواتین کو تازہ دم کردیتے ہیں اور ان کے اندر مامتا کا جذبہ اُبھارتے ہیں۔ فیس بک پر بھنگ کے انسانی جسم اور نفسیات پر اثرات کی وضاحت کرنے والی کئی کینیڈین خواتین کا دعویٰ ہے کہ جب وہ رات میں یا دن میں بھنگ کا خوب استعمال کرتی ہیں تو ان کے اندر ایک قسم کی مخفی توانائی اُمڈ پڑتی ہے اور وہ بڑی پرجوش ہوجاتی ہیں، جس سے گھر کا کام کاج بھی جوش کے ساتھ کرتی ہیں اور بچوں کی دیکھ بھال میں بڑی چابک دستی محسوس کرتی ہیں۔٭
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment