شیخ جنید اور حقیقت تصوف

حضرت جنید بغدادیؒ کے جانشین حضرت شیخ ابو محمد جریریؒ آپ کی ایک مجلس کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ایک دن حضرت ابن مسروقؒ اور دوسرے دوسرے بزرگ مجلس میں موجود تھے اور قوال بڑے جوش کے عالم میں ایک دلکش نغمہ گا رہے تھے۔ حضرت ابن مسروقؒ جوش اضطراب میں اٹھ کر کھڑے ہوگئے، مگر جنید بغدادیؒ اپنی نشست پر اس طرح بیٹھے رہے کہ آپؒ کے جسم کو معمولی سی حرکت بھی نہیں ہوتی تھی۔ پھر جب مجلس ختم ہوگئی تو شیخ ابو محمد جریریؒ نے عرض کیا ’’حضرت! آپ پر سماع کا کچھ اثر ہوا؟‘‘
جواب میں حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا ’’ابو محمد! تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو، کیا وہ بادلوں کی طرح اڑتے پھرتے ہیں؟‘‘ بے شک! حضرت جنید بغدادیؒ استقامت میں ایک پہاڑ کے مانند تھے۔ انتہائی وجد کے عالم میں بھی نہایت پر سکون رہتے۔ نہ خود بے قرار ہوکر کھڑے ہوتے اور نہ اپنے شاگردوں کے لئے اس عمل کو جائز سمجھتے۔
حضرت جنید بغدادیؒ فرمایا کرتے تھے:
’’جب تم کسی صوفی کی یہ حالت دیکھو کہ وہ ظاہری کی باتوں کا زیادہ خیال رکھتا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا باطن خراب ہے۔‘‘
تصوف ایک ایسا موضوع ہے جس پر صدیوں سے عجیب و غریب بحث جاری ہے، مگر اس سلسلے میں حضرت جنید بغدادیؒ نے جو کچھ فرما دیا ہے، اس پر کسی بھی زاویے سے اضافہ نہیں کیا جا سکا۔
ایک اور موقع پر حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا ’’تصوف یہ ہے کہ حق تعالیٰ اور تیرے درمیان میں کوئی واسطہ نہ رہے۔‘‘
ایک بار فرمایا ’’تصوف تو ایک جنگ ہے، جس میں صلح نہیں۔‘‘ جنگ سے مراد نفس کے خلاف جنگ ہے اور نفس آخری سانس تک باقی رہتا ہے۔ اس لئے نفس کے ساتھ صلح نہیں ہو سکتی۔
ایک دن فرمایا ’’تصوف رب کے ساتھ معاملات کے صاف ہونے کا نام ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ دنیا سے روگردانی کی جائے۔‘‘
ایک دن وعظ کے دوران فرمایا ’’تصوف یہ ہے کہ اسی تصوف سے رب تیری خودی کو مٹا ڈالے اور پھر اسی تصوف سے تجھے زندہ کرے۔‘‘
ایک اور موقع پر صوفی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ’’صوفی وہ ہے جو زمین کے مانند ہو کہ دنیا بھر کی غلاظت اس پر ڈالی جاتی ہے، مگر اس کے اندر سے سرسبز فصل پھوٹتی ہے۔‘‘
حضرت جنید بغدادیؒ فرمایا کرتے تھے کہ تصوف کی بنیاد آٹھ خصلتوں پر ہے جو انبیائے پاک علیہم السلام کے ساتھ مخصوص تھیں۔
(1) سخاوت جو حضرت ابراہیمؑ کا وصف خاص تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ صوفی کا دل حضرت ابراہیمؑ کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو۔
(2) رضا جو حضرت اسحاقؑ کے لئے مخصوص تھی۔ دوسری روایت میں حضرت اسمٰعیلؑ کی مثال دی گئی ہے۔
(3) صبر جس کا حق حضرت ایوبؑ نے ادا کیا۔
(4) اشارہ جو حضرت زکریاؑ کے لئے مخصوص تھا۔
(5) اندوہ و غم جسے حضرت داؤدؑ کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔
(6) غریب الوطنی جو حضرت یحییٰؑ کے لئے مخصوص تھی۔
(7) سیاحت جو حضرت عیسیٰؑ کے خصائص میں سے تھی۔
(8) فقر اور درویشی جو حضرت محمد مصطفی علیہ الصلوٰۃ و السلام کو بطور خاص بخشی گئی تھی۔ دوسری روایت کے مطابق مناجات میں صوفی کا اخلاص حضوراکرمؐ کی طرح ہو۔
ان مثالوں سے کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صوفی پیغمبرانہ صفات کا حامل ہوتا ہے۔ دراصل انبیائے کرامؑ سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین نمونہ ہوتے ہیں، اس لئے ان ہی کی تقلید کرکے انسان صوفیت اور ولایت کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔
ایک بار کسی شخص نے برسر مجلس آپؒ سے پوچھا ’’مریدوں کو حکایتیں سنانے سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟‘‘
حضرت جنید بغدادیؒ نے جواب میں فرمایا ’’حکایتیں تو رب تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں، جس سے مریدوں کے دلوں کو تقویت پہنچتی ہے۔‘‘
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment