تثلیث سے توحید تک

دنیا کی وہ مقدس چیزیں جو ہمیں دور سے بہت دل قریب نظر آتی ہیں، اکثر بہت ہی مکروہ اور خراب ہوتی ہیں! کتنے راہب ایسے ہیں، جو فی الحقیقت راہب ہوں! اور کتنے ہادی واقعی ہدایت کا کام کرتے ہیں… جب سندر کماربنارس پہنچی تو اسے بھی ان تلخ حقیقتوں کا احساس ہوا۔ اس کے رنج و الم نے اس کی فطری کشش کو کم نہ کیا تھا اور اس کا زاہد فریب حسن اب بھی تارک الدنیا راہبوں تک کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ وہ بنارس جاتے ہی ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہوگئی۔ اس دنیائے تقدس میں جہاں گناہ کا نام لینا بھی گناہ تھا، سندر کماری کو ہر درودیوار سے گناہ کی آواز آنے لگی۔ وہ حیران تھی کہ میں کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔ اس سرزمین میں جہاں دنیوی کثافتوں سے بالا تر ہونے کی آرزو مند ہوں، میرا امتحان اس قدر شدید کیوں لیا جاتا ہے؟ کیا دنیا نیکوں سے خالی ہے؟ کیا تقدس و رہبانیت کا خاتمہ ہوگیا؟ کیا کوئی متنفس ایسا نہیں ہے، جو صحیح صحیح ہدایت کرے اور مجھے وہ راستہ دکھا سکے، جہاں پہنچ کر میں تمام دنیا کو فراموش کر دوں؟
ایک روز اسی خیال میں مستغرق گنگا کے کنارے ایک تنہا مقام پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کاشی میں آنے کے بعد سے اس وقت تک کے تمام نظارے پھر گئے۔ اکثر پنڈتوں کی بد اخلاقی اور اس کی عصمت کے خطرہ میں پڑ جانے کے تمام واقعات اس کی نظر کے سامنے آگئے اور اس کی آنکھوں کے سامنے ان پجاریوں کے مقدمہ کی بھیانک تصویر بھی آگئی، جو معصوم عورتوں کو تہہ خانہ میں رکھنے، ان کی عصمت پر ڈاکہ ڈالنے اور ناجائز بچوں کو مار پھینک دینے کے ہولناک جرائم میں 1903ء میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس مقدمہ میں بنارس کے ایک تہہ خانے میں سے تقریباً ستر بچوں کی کھوپڑیاں نکلی تھیں، جن کو چھپانے کے لیے مار کر وہاں ڈال دیا گیا تھا۔
اس نے اپنے قلب کی حالت کو دیکھا اور اس پر یہ حقیقت اور بھی واضح ہوگئی۔ اس نے سوچا کہ مجھے بہت اچھی طرح عبادت کرنی چاہئے، شاید اس سے مجھے اپنے نفس پر قابو حاصل ہو جائے اور میں فطرت کے مقابلے میں کامیاب ہو سکوں۔ لہٰذا وہ تمام مندروں میں گئی اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں مانگیں کہ دیوتا اسے قدرت پر نہ سہی، کم از کم اس کے نفس پر اس کو فتح دلا دیں۔ یہ عمل ایک عرصہ تک جاری رہا، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا اور سندر کماری کے شکوک و شبہات ترقی ہی کرتے رہے!
ایک دن وہ مندر سے نکل رہی تھی، اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی مندر میں جانا چاہتا ہے، لیکن کوئی اسے گھسنے نہیں دیتا۔ جب اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اچھوت ہے اور اگر وہ اندر گھس آیا تو مندر ناپاک ہو جائے گا، اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ بے چارہ انسان کیا ان دیوتاؤں کا ماننے والا نہیں ہے؟ پھر دیوتا کے پجاری اسے اپنے معبود تک کیوں نہیں جانے دیتے؟ اس نے قریب جا کر اس شخص سے پوچھا کہ ’’تو کون ہے؟‘‘ اس نے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں، میں دیوتا کے درشن کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے گھسنے نہیں دیا جاتا کہ میرے جانے سے مندر ناپاک ہو جائے گا۔ سندر کماری نے پوچھا کیا تم انسان نہیں ہو؟
اس نے جواب دیا میں انسان ضرور ہوں، لیکن پنڈت کہتے ہیں کہ میرے چھونے سے ہر چیز خراب ہو جاتی ہے۔ جس کھانے کو میں چھو لیتا ہوں اور جس پانی کو میں پی لیتا ہوں، حتیٰ کہ جس چیز پر میرا سایہ بھی پڑ جاتا ہے، وہ بھی ناپاک ہو جاتی ہے۔
سندر کماری زیادہ نہ سن سکی، وہ خیالات میں ڈوب گئی اور وہاں سے چلی گئی۔
چاندنی رات کی روشنی میں بنارس کی عالمگیری مسجد نے ایک خاص دل آویزی اختیار کرلی تھی۔ اس کے بلند میناروں پر ایک سکوت کا عالم طاری تھا اور اس کے گنبدوں کا شکوہ اور بڑھ گیا تھا۔ سندر کماری کھڑی ہوئی اس نظارہ کو دیکھ رہی تھی اور تعجب کر رہی تھی کہ کیا یہ عمارت بھی خود غرضیوں اور نفس پرستیوں کا ویسا ہی مرکز ہے، جیسا کہ دوسرے معابد میں دیکھ چکی ہوں۔ وہ جانتی تھی کہ دنیا کی آبادی کا ایک حصہ مندروں سے علیحدہ ہے اور مسجدوں میں جا کر عبادت کرتا ہے۔ اب اس کے دل میں یکایک یہ خیال آیا کہ اس کے اندر عبادت کا کیا طریقہ ہے؟ اس کے اندر کس کی عبادت ہوتی ہے؟ کیا اس میں وہ لوگ جمع ہوتے ہیں، جو میری طرح مندروں سے بیزار ہیں۔(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment