گرفتارمفتی عبداللہ شوکت مضاربہ اسکینڈل کا اہم کردار ہے

مرزا عبدالقدوس
اربوں روپے کے مضاربہ اسکینڈل کے ایک اہم کردار مفتی عبداللہ شوکت کی دبئی سے گرفتاری کو بہت اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق مفتی عبداللہ شوکت سات ارب بیس کروڑ روپے کے غبن اور دھوکہ دہی میں ملوث ہے اور اس لوٹ مار میں وہ مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی کردار شفیق الرحمان کا معاون اور کارندہ خاص رہا ہے۔ اس رقم کے علاوہ بھی مفتی عبداللہ شوکت نے سرمایہ کاری کے لئے سادہ لوح افراد سے کروڑوں روپے وصول کئے۔ مفتی عبداللہ شوکت نے شفیق الرحمان کے فرنٹ مین کے طور پر کام کیا اور اپنی دینی ساکھ اور علمی منصب کو بھی ناجائز طور پر استعمال کیا۔
’’امت‘‘ کو دستیاب معلومات کے مطابق مضاربہ اسکینڈل کے اہم کردار مفتی عبداللہ شوکت نے مرکزی ملزم شفیق الرحمان کے کاروبار اور اس کاروبار میں منفعت کی غرض سے سرمایہ کاری کو جائز قرار دینے کے لئے نہ صرف فتوے جاری کئے۔ بلکہ اس نے شفیق الرحمان کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لئے سینکڑوں افراد کو ترغیب بھی دی۔ نیب میں موجود ذرائع کے مطابق مفتی عبداللہ شوکت نے لوگوں کو گمراہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی جانب سے دیئے گئے فتووں اور ترغیب کی وجہ سے اسکینڈل کے مرکزی ملزم شیفق الرحمان قلیل عرصے میں اربوں روپے لوگوں سے ہتھیانے میں کامیاب ہوا۔ ان ذرائع کے بقول مفتی عبداللہ شوکت کے خلاف نیب حکام کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ چند برس قبل وہ بھی دیگر ملزمان کی طرح منظر سے غائب ہوگیا۔ بعد میں نیب حکام کو اپنے پھیلائے نیٹ ورک سے علم ہوا کہ عبداللہ شوکت متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں رہ رہا ہے اور گرفتاری کے خوف سے پاکستان آنے سے ہچکچا رہا ہے۔ بعد ازاں عبداللہ شوکت کو باقاعدہ واچ کیا گیا اور پھر نیب حکام نے مختلف عدالتی مراحل طے کرنے کے بعد بالآخر اسے دبئی سے انٹرپول کی مدد سے قابو کرلیا اور گزشتہ ہفتے اسے پاکستان لایا گیا تھا۔
متعبر ذرائع کے مطابق ملزم عبداللہ شوکت گزشتہ تین دن سے نیب حکام کی تحویل میں تھا، جسے گزشتہ روز ایک ماتحت عدالت میں پیش کیا گیا۔ اب نیب حکام ملزم سے تفتیش کر کے اس کے خلاف عدالت میں چالان پیش کریں گے۔ نیب حکام کے مطابق مفتی عبداللہ شوکت نے نہ صرف شفیق الرحمان کے ایجنٹ اور سہولت کار کے طور پر کام کر کے ہزاروں افراد کو ان کی جمع پونجی سے محروم کیا۔ بلکہ جب اسے اس لوٹ مار کی سمجھ آ گئی تو اس نے شفیق الرحمان کے پارٹنر یا معاون کے طور پر کام کرنے کے بجائے انفرادی سطح پر بھی لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس نے کئی افراد کو اپنے منافع بخش کاروبار کا جھانسہ دے کر ان سے کروڑوں روپے وصول کئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں بعض افراد کو بھاری منافع دے کر مزید لوگوں کا اعتماد بھی حاصل کیا اور کروڑوں روپے کی وصولی کے بعد اچانک منظر سے غائب ہوگیا۔ ذرائع کے بقول نیب حکام ملزم عبداللہ شوکت کی کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں جائیداد کا کھوج لگا رہے ہیں۔ ذرائع کے بقول اس خدشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے لوٹی گئی بھاری رقم عرب ریاستوں یا بیرون ملک منافع بخش سرمایہ کاری میں لگا رکھی ہو اور کسی کے نام پر کسی بڑے کاروبار کا مالک یا حصہ دار ہو۔ اب ملزم سے تفتیش کے نتیجے میں ہی تمام حقائق سامنے آئیں گے۔
’’امت‘‘ کے ذرائع کے مطابق ملزم عبداللہ شوکت سے مزید اہم انکشافات کی بھی توقع ہے، جو اربوں روپے کی مضاربہ اسکینڈل میں بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اربوں روپے کے مضاربہ اسکینڈل میں قومی تحقیقاتی ادارے نیب کو ملک بھر سے 33 ہزار 744 شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں لوگوں نے اپنے لٹنے کی تفصیلات سے نیب حکام کو آگاہ کیا۔ نیب نے اب تک 32 اہم ملزمان گرفتار کئے ہیں اور ان کے خلاف کیسز مختلف مراحل میں ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جن ہزاروں خواتین و حضرات کی جمع پونجی اس ٹھگ ٹولے نے اسلامی مضاریت اور شرعی کاروبار کے نام پر لوٹی، وہ اب بھی اپنی رقوم کے لیے ترس رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment