فرسٹ کلاس کرکٹرز نے احتجاج کی تیاری کرلی

امت رپورٹ
ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خاتمے کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹرز نے احتجاج کی تیاری کرلی ہے اور اس سلسلے میں لائحہ عمل ترتیب دیا جارہا ہے۔
ادھر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو تبدیل کرتے ہوئے آسٹریلین کرکٹ کی طرز کا ماڈل تیار کرلیا ہے۔ یہ نیا ماڈل پی سی بی کے پیٹرن انچیف وزیراعظم عمران خان کے دستخط کے بعد نافذ العمل ہوجائے گا۔ نئے نظام کے تحت پاکستان کی ریجنل اور ڈومیسٹک ٹیموں کی تعداد چھ ہوگی۔ ان میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون کی ایک ایک ٹیمیں، پنجاب کی دو ٹیمیں، جبکہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور پرانے راولپنڈی ریجن پر مشتمل ایک ٹیم تیار کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کے دستخط کے بعد منظور ہونے والے اس نئے کرکٹ نظام کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹس قائداعظم ٹرافی، نیشنل ون ڈے کپ اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں آئندہ یہی چھ ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن نئے کرکٹ ماڈل کے منظور ہوتے ہی مختلف ڈیپارٹمنٹس کی ٹیمیں بھی خود بخود ختم ہوجائیں گی۔ کیونکہ جب ان ٹیموں کو ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کھیلنے کا پلیٹ فارم ہی میسر نہیں ہوگا تو پھر ان کا وجود برقرار رکھنے کا مقصد بھی باقی نہیں رہے گا۔ ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہونے کی صورت میں دو ہزار سے زائد فرسٹ کلاس کرکٹرز کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا ان کرکٹرز میں بے حد غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فرسٹ کلاس اور گریڈ ٹو کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد 32 ہے۔ ان میں ہر ٹیم کے آٹھ آفیشلز کے علاوہ 30 کھلاڑی ہیں۔ جبکہ بعض ڈیپارٹمنٹس نے 50 اور 100 کھلاڑی بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک معروف ڈیپارٹمنٹل ٹیم کے کرکٹ کوچ نے بتایا کہ کرکٹ پیٹرن انچیف عمران خان کی ہدایت پر پی سی بی کے اس اقدام کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹرز احتجاج کا پلان بنارہے ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز لاہور میں ایک اجلاس بھی ہوا۔ جس میں ایک سو کے قریب فرسٹ کلاس کرکٹرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک بھر میں اپنے دیگر ساتھی کرکٹرز کے ساتھ رابطے سمیت دیگر لائحہ عمل پر غورکیا گیا۔ کوچ کے بقول اس حوالے سے چند معروف فرسٹ کلاس کرکٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو احتجاج کے طریقہ کار اور دیگر معاملات کو دیکھے گی۔ فرسٹ کلاس کرکٹرز کی دوسری میٹنگ کراچی اور تیسری میٹنگ اسلام آباد میں بلائی جائے گی۔ جبکہ احتجاج کے پہلے مرحلے میں صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ سینکڑوں فرسٹ کلاس کرکٹرز کو بیروزگاری سے بچانے کے لئے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خاتمے کے فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔ اگر ان خطوط کا مثبت جواب نہیں ملا تو پھر دوسرے مرحلے میں پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ یا دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم اس کا حتمی فیصلہ ملک بھر کے تمام فرسٹ کلاس کرکٹرز کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔ کرکٹ کوچ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس مشکل مرحلے میں متعدد معروف ٹیسٹ کرکٹرز، فرسٹ کلاس کرکٹرز کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں۔ حالانکہ یہ معروف کرکٹرز خود بھی مختلف ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے کرکٹ کھیل رہے ہیں یا ماضی میں کھیلتے رہے ہیں اور اب ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی کوچنگ یا دیگر معاملات سے منسلک ہیں۔ کوچ کا کہنا تھا ’’ہم نے مصباح الحق، محمد یوسف، سعید اجمل اور سرفراز نواز سمیت ایک درجن سے زائد معروف کرکٹرز سے رابطہ کیا۔ اور انہیں کہا کہ آپ لوگ خود بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کھیل کر اسٹار بنے۔ آج وزیراعظم کی ہدایت پر پی سی بی ہمارا معاشی قتل عام کرنے جارہی ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ تاہم کوئی بھی نام ور کرکٹر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ صرف شعیب اختر نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہمارے لئے آواز اٹھائیں گے۔ لیکن احتجاج کے لئے انہوں نے بھی ہامی نہیں بھری۔ جس کے بعد نوجوان فرسٹ کلاس کرکٹرز اپنی مدد آپ کے تحت احتجاج کا پلان تشکیل دے رہے ہیں‘‘۔
ایک اور معروف ادارے کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہونے سے خود اداروں کا بھی نقصان ہوگا۔ یہ ادارے اگرچہ کرکٹرز کو تنخواہیں دیتے ہیں۔ لیکن اس کے عوض ان کی ایڈورٹائزمنٹ ہوتی ہے۔ جبکہ ٹیموں کے خسارے کو شو کرکے وہ اپنے ٹیکس بھی بچاتے ہیں۔ چونکہ یہ ادارے پی سی بی کے اقدام کے خلاف خود کھل کر سامنے نہیں آسکتے۔ اس لئے انہوں نے اپنے اسپورٹس سیکشن کے سربراہان کو کہا ہے کہ وہ پی سی بی کے فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کریں۔ کیونکہ ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہونے سے ان کے ادارے تو چلتے رہیں گے۔ لیکن کرکٹرز کے چولہے بجھ جائیں گے۔
دوسری جانب ایک معروف بینک کی کرکٹ ٹیم منیجر نے وزیراعظم عمران خان کے آسٹریلین کرکٹ ماڈل کے وژن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کی کرکٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آسٹریلیا کی کرکٹ ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم کرنے سے مضبوط نہیں ہوئی۔ بلکہ وہاں اسکول اور کلب کی سطح پر کرکٹ کا مضبوط ڈھانچہ موجود ہے۔ جس کے لئے پاکستان میں کبھی کام نہیں کیا گیا۔ پھر یہ کہ آسٹریلیا میں اوپن ٹرائل کے ذریعے میرٹ پر کھلاڑی منتخب کئے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں سفارش پر کھلاڑیوں کی شکایات عام ہیں۔ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے ٹیموں کی تعداد محدود کرنے سے کھلاڑیوں کے میرٹ کا قتل بھی بڑھ جائے گا۔ اور ٹیموں کی زیادہ تعداد کی صورت میں جو ٹیلنٹ سامنے آرہا تھا، وہ رک جائے گا۔ منیجر کے بقول عمران خان کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان نے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے کی بدولت ہی ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا۔
عمران خان کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ایک معروف سابق کھلاڑی کا کہنا ہے کہ آج ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی مخالفت کرنے والے سابق آل رائونڈر خود بھی پی آئی کی طرف سے کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر نے بتایا کہ ’’1978ء میں عمران خان اور وہ پی آئی اے کی طرف سے کرکٹ کھیلتے تھے اور ان دونوں کو فی میچ کے 35 سو روپے ملا کرتے تھے۔ اس وقت لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز بٹ تھے، جو بعد میں چیئرمین پی سی بی بھی بنے۔ اعجاز بٹ نے مجھے اور عمران خان کو اپنی ایسوسی ایشن کی جانب سے کھیلنے کی دعوت دی، لیکن ہم نے انکار کردیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ہمیں کھیلنے کے مناسب پیسے دیتا ہے، جبکہ ایسوسی ایشن کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو پیسے نہیں دیتی۔ جس پر اعجاز بٹ نے ہم دونوں کو دس ہزار روپے فی کس کے حساب سے کھیلنے پر آمادہ کرلیا تھا‘‘۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر کے بقول انہیں حیرانی ہے کہ اب عمران خان ان ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کرکے نوجوان کرکٹروں کو معاشی بحران میں کیوں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں یہ قدم اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے۔
پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی خود بھی ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے سپورٹر ہیں۔ اور انہوں نے اپنے چالیس سال پرانے دوست عمران خان کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کرنا پاکستان کرکٹ کے لئے بہتر نہیں ہوگا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ تین روز قبل جب چیئرمین پی سی بی نے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد اور ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہارون رشید سمیت بورڈ کے دیگر ارکان کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی تو اپنی اس کوشش پر انہیں ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ احسان مانی نے نئے کرکٹ ماڈل کے مسودے میں ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹیموں کی تعداد آٹھ رکھی تھی اور ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس مسودے کو عمران خان نے سختی سے رد کر دیا اور بالکل آسٹریلین کرکٹ ماڈل پر مسودہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔
پاکستان کرکٹ کا ڈومیسٹک ڈھانچہ درست کرنے کے لئے پی سی بی نے چند ماہ پہلے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے۔ اس کمیٹی نے ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو برقرار رکھا جائے یا ترک کردیا جائے۔ کمیٹی کے سربراہ سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن حسن خان ہیں۔ ’’امت‘‘ کے رابطہ کرنے پر محسن حسن خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ کمیٹی تو اسی مقصد کے لئے بنائی گئی تھی اور آپ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ اس پر محسن خان نے یہ مختصر جواب دے کر مزید کمنٹس کرنے سے انکار کردیا کہ ’’جب تک چیئرمین پی سی بی سے میری بات نہیں ہوجاتی۔ میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment