فرشتوں کی عجیب دنیا

حضرت آدمؑ کا جنازہ اور جبرائیلؑ امین
حضرت ابن عباسؑ فرماتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی نماز جنازہ حضرت جبرائیلؑ نے پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں اور مسجد خیف میں فرشتوں کی امامت کرتے ہوئے جنازہ پڑھایا۔(محدث) ابن عساکرنے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ ’’اس دن دیگر فرشتوں پر حضرت جبرائیل ؑ کی فضیلت معلوم ہوئی۔(سنن دار قطنی، ابن عسا کر)
(فائدہ) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت آدمؑ کا جنازہ فرشتوں نے پڑھا تھا، امامت حضرت جبرائیل ؑنے کی تھی۔ جنازے میں چار تکبیریں کہی گئیں اور نماز جنازہ مسجد خیف میں ادا کی گئی، جو میدان عرفات مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔
فرشتے ہم نشین ہوتے ہیں
(حدیث) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اقدسؐنے ارشاد فرمایا:
(ترجمہ) کچھ لوگ مساجد کو لازم پکڑنے والے ہیں، فرشتے ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اگر یہ لوگ غائب ہو جائیں تو ان کو تلاش کرتے ہیں، اگر بیمار ہوں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر کسی ضرورت میں پڑتے ہیں تو ان کی اعانت کرتے ہیں۔ (ابن بخار، کنز العمال 20350،درمنثور 3/216 مجمع الزوائد 2/22 بحوالہ مسند احمد)
(فائدہ) اس طرح کی ذیل کی روایت اور بھی کتب حدیث میں موجود ہے جس کو علامہ سیوطی نے مذکورہ روایت کی تقویت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔
(حدیث) حضرت عطاء خراسانی (تابعیؒ) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اقدسؐ نے ارشاد فرمایا:
(ترجمہ) کچھ لوگ مساجد کو لازم پکڑنے والے ہیں، ان کے ساتھ فرشتے بیٹھتے ہیں، اگر یہ لوگ غائب ہو جائیں تو ان کو تلاش کرتے ہیں۔ اگر کسی حاجت میں مصروف ہوتے ہیں تو یہ ان کی اعانت اور مدد کرتے ہیں۔ اگر بیمار ہوتے ہیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر (مسجد میں) حاضری سے رہ جائیں تو ان کو تلاش کرتے ہیں اور اگر موجود رہیں تو ان سے کہتے ہیں تم خدا کو یاد کرو، خدا تمہیں یاد کرے گا۔ (مسند احمد 2/318 مصنف عبد الرزاق 20585 مجمع الزوائد 2/22 ترغیب و ترہیب 1/220 درمنثور 3/216 مجمع الجوامع 7034 کنز العمال 70351 شعب الایمان 20350)(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment