پنجاب میں انسداد دہشت گردی مقدمے کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دینے کا اختیار گریڈ 20 افسر کو مل گیا

پنجاب اسمبلی میں متنازع ترمیمی بل اپوزیشن کے احتجاج کے بعد منظور

September 1, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے بعد انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ہے۔

یہ بل مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی خالد رانجھا نے 8 جون کو پیش کیا تھا، جسے پیر کی شب منظور کر لیا گیا۔

اس متنازع بل کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے کسی بھی مقدمے کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دیا جا سکتا ہے، جس کا فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی گریڈ 20 کا افسر کرے گا اور تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے گئے، تاہم انہیں مسترد کرتے ہوئے ایوان کی اکثریت نے بل کو منظور کر لیا۔ اس کا نفاذ پنجاب بھر میں فوری طور پر ہو جائے گا۔

سپیشل سکیورٹی کیس، گریڈ 20 کا افسر اور خفیہ کارروائی

انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی کے ہائی سکیورٹی مقدمات کے لیے خصوصی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔

اس کے تحت انسداد دہشت گردی کے تحت درج کسی بھی کیس کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دیا جا سکے گا، اس بات کا تعین اور فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی ایک گریڈ 20 کا افسر کرے گا کہ کس کیس کو سپیشل سکیورٹی کیس قرار دینا ہے۔

نامزد اتھارٹی کی جانب سے ان کیسز پر کام کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ کیا جائے گا۔ اس پر وہ دونوں فیصلہ کریں گے کہ کیا کسی مخصوص کیس یا کیسز کی کلاس کو غیر معمولی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ بل کے مطابق اس کے ذریعے سے حکومت سے بھی مشورہ اور رابطہ قائم ہوگا۔

سپیشل سکیورٹی کیسز میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت کا طریقہ خفیہ رکھا جائے گا۔ کیس کا مکمل عدالتی ریکارڈ سیل کیا جائے گا۔