میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے سامنے والدہ کے بڑے انکشافات
والدین کے علاوہ ایم ایل او نے بھی بیان ریکارڈ کرایا- غلط رپورٹ تیار کرنے پر سرزش، دباؤ کا الزام متاثر
فائل فوٹو
** سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا قتل کیس پر قائم جوڈیشل کمیشن کی اہم سماعت ہوئی ہے، جس میں مقتول کے والدین، بہن اور ایم ایل او سمیت اہم گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ میر رضا کی والدہ نے اہم تفصیلات کمیشن کو بتائیں۔**
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران مقتول کے والد میر حسین نے کمیشن کو بتایا کہ واقعے کی رات صبح 4 بج کر 14 منٹ پر رضا کے دوست حیسم کی کال آئی، جس نے مقتول کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہونے کی اطلاع دی۔ والد کے مطابق جب انہوں نے کمرہ چیک کیا تو رضا غائب تھا، تاہم اس کا موبائل اور دیگر سامان وہیں موجود تھا۔
مقتول کی والدہ نے بیان دیا کہ میر رضا ایک بزنس پارٹنر احمد ان کے گھر آیا تھا اور اس نے فوڈ پانڈا کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا کہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ڈرائیور کی دی گئی لوکیشن کا نقشہ فالو کرتے ہوئے گلستانِ جوہر پہنچیں، والدہ کے مطابق جہاں میر رضا اترا، وہ جگہ ایک کلاؤڈ کچن سے 100 میٹر دور تھی۔ کچن انتظامیہ نے بتایا کہ اس وقت کچن بند ہوتا ہے۔ وہاں موجود ایک گارڈ نے اشارہ دیا کہ میر رضا قریبی گیسٹ ہاؤس گیا ہوگا جہاں غیر قانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ میر رضا کی تصویر دیکھتے ہی گیسٹ ہاؤس میں ہل چل مچ گئی۔
کمیشن کے سامنے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ پیش ہوئے۔ کمیشن نے غلط اور ناقص رپورٹ تیار کرنے پر ڈاکٹر کی سخت کلاس لی اور شدید سرزنش کی۔ تاہم، پوسٹ مارٹم میں تبدیلی کے حوالے سے سیاسی یا انتظامی دباؤ کے سوال پر ڈاکٹر اسامہ نے کسی بھی قسم کے دباؤ کے وجود سے انکار کیا۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے قاتلوں کی نشاندہی یا کیس سے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ معلومات دینے والے کا نام مکمل خفیہ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے آفیشل ای میل اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ کمیشن کیس کی ازسرنو تفتیش نہیں کر رہا، بلکہ اس کا مقصد پولیس تحقیقات میں ہونے والی غفلت، کوتاہیوں اور نقائص کا جائزہ لے کر ذمہ دار افسران کا تعین کرنا ہے۔