یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل مبینہ بیان حلفی، اہلیہ کو نکاح سے آزاد کرنے کا ذکر
مما کو چھوڑنے کا سوچا بھی تو میں کلائی کاٹ لوں گی، بیٹی رضیہ سلطانہ کا ویڈیو بیان
یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطانہ دوسری جانب اہلیہ مشعال کے ساتھ یادگار تصویر
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے جموں کی انسداد دہشت گردی عدالت ٹاڈا کے لیے ایک نیا بیان حلفی تیار کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو چھوڑنے کی بات کی ہے۔ اس حلف نامے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تاہم یاسین ملک کی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ نے ایک ویڈیو بیان میں اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے اگر آپ نے مما کو چھوڑنے یا تحریک کو چھوڑنے کا سوچا بھی یا اس پر عمل کیا تو میں اپنی کلائی کاٹ لوں گی۔
ویڈیو کے آغاز پر رضیہ سلطانہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ کا حلف نامہ بار بار پڑھا ہے، مما نے بھی پڑھا ہے اور بے ہوش ہوگئی تھیں۔
یاسین ملک اس وقت بھارت کی تہاڑ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف قتل سمیت مقدمات چل رہے ہیں۔
امریکہ میں مقیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اور یاسین ملک کے دوست راجہ مظفر کے مطابق نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے نے ان کی طویل قید، متنازعہ قانونی کارروائیوں اور تنازعہ کشمیر کے گہرے انسانی المیے کو ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
راجہ ظفر کا کہنا ہے یاسین ملک نےطویل قید تنہائی، خرابی صحت اور عدالتی نظام میں شفافیت اور عدم انصاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے استخارہ کرنے کے بعد بھارتی عدالتوں میں مقدمات کی مزید پیروی نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اپنے کیس کا فیصلہ اب رب کریم کے سپرد کرتے ہیں، اور انہوں نے بھارتی عدالت سے سزائے موت کی درخواست کی ہے تاکہ ان کا یہ اقدام ضمیر کی آخری آواز کے طور پر تاریخ میں درج ہو سکے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسے کسی صورت ان کا اعتراف جرم نہ سمجھا جائے۔
حلف نامے کے انتہائی رنجیدہ اور جذباتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ڈیتھ سیل میں اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کی تصویر، اپنی والدہ اور اہلیہ مشعال ملک کی کٹھن زندگی اور تکالیف کا تذکرہ کیا۔
راجہ مظفر کے مطابق اس بیان حلفی کے ذریعے یاسین ملک نے اپنے خاندان بالخصوص والدہ محترمہ، اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کو بھی مخاطب کیا ہے۔ اہلیہ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ پچھلے 8 سال سے وہ نہ تو اپنی اہلیہ کی آواز سن سکے ہیں اور نہ ہی فون یا ویڈیو کال کے ذریعے کوئی رابطہ ہو سکا ہے کیونکہ انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ میں نہیں چاہتا کہ مشعال اپنی باقی زندگی ان حالات کے بوجھ تلے یا ایک بیوہ کی طرح گزارے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ عزت اور امید کے ساتھ اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کرے۔
ممکنہ پھانسی یا طویل قید کے تناظر میں یاسین ملک نے لکھا کہ وہ اپنی اہلیہ کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا تلخ فیصلہ کر چکے ہیں تاکہ وہ ان کے مستقبل کی فکر سے آزاد ہو سکیں۔ 13 سالہ بیٹی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ 8 سال سے انہوں نے اس کی آواز نہیں سنی۔ ڈیتھ سیل کی تنہائی میں صرف وہ خود ہیں اور ان کی بیٹی کی ایک تصویر ہے۔ یاسین ملک کے مطابق بیٹی کی اس ایک تصویر کے ذریعے وہ 24 گھنٹے اسے اپنے پاس محسوس کرتے ہیں اور صرف اس کی خوشی، حفاظت اور روشن مستقبل کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔ وہ بیٹی کو ہدایت کرتے ہیں کہ دادی سے رابطہ رکھا جائے اور روزانہ کم از کم 5 منٹ اپنی دادی کو فون ضرور کیا کرے، تاکہ اس مشکل وقت میں ان کی بوڑھی دادی کو اپنی پوتی کی محبت، تعلق اور سہارے کا احساس ہو سکے۔
یاسین ملک نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی طویل قید و بند کی وجہ سے ان کا پورا خاندان مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت سے گزر رہا ہے۔ اپنے اس حلف نامے کے آخر میں یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے بنیادی انسانی حقوق، وقار اور تنازعہ کشمیر کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے مکمل طور پر متحد ہو جائیں۔