وفاق سے ریلیف نہ ملا تو خیبرپختونخوا کے حقوق کیلئے عدالت جائیں گے،سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا ملکی توانائی کی ضروریات میں اتنا بڑاحصہ ڈال رہاہےلیکن بقایا جات 2300 ارب سےزائد ہوچکےہیں

September 1, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواکی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی سمیت قدرتی وسائل پورے پاکستان کی توانائی ضروریات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم اپنے وسائل پیدا کرنے کے باوجود صوبے کے عوام کو ان کا جائزحق نہ ملنا مزید قابل قبول نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ توانائی و برقیات کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں محکمہ توانائی و برقیات کے جاری ترقیاتی منصوبوں، توانائی کی پیداوار، صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام، قدرتی وسائل اور وفاق کے ذمے واجبات سمیت دیگر اہم امور پر وزیراعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے، تاہم 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کی توانائی ضروریات میں اتنا بڑا حصہ ڈال رہا ہے، لیکن دوسری طرف اے جی این کازی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے این ایچ پی کے بقایاجات 2300 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے ملے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور غیر متناسب ادائیگیوں سے خیبرپختونخوا کی مالی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ این ایچ پی کی 5 فیصد سالانہ انڈیکسیشن، بقایاجات، لیٹ پیمنٹ سرچارج اور براہ راست ادائیگی کے طریقہ کار کے لیے خیبرپختونخوا نے مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کیا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اپنی بجلی کی قابل اعتماد ترسیل اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام قائم کر رہا ہے۔ صوبہ اپنے ٹرانسمیشن، ریگولیٹری اور ڈسٹری بیوشن نظام کو بھی صوبائی سطح پر مضبوط کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے کو سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ انتہائی منافع بخش ہے اور متعدد ممالک اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پیڈو کے توانائی منصوبوں کا مجموعی پورٹ فولیو تقریباً 7890 میگاواٹ پر مشتمل ہے جبکہ پیڈو کے 224 میگاواٹ کے آپریشنل منصوبوں سے مالی سال 2025-26 میں 8.829 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل اور توانائی کی پیداوار کے باوجود صوبے کے عوام کو ان کے وسائل کا جائز فائدہ نہ ملنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کے استعمال میں صوبے کو ترجیح حاصل ہے، خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی خام تیل پیداوار کا 48 فیصد فراہم کر رہا ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ خیبرپختونخوا میں کنویں کے مقام پر عائد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت صوبے کو ادا کی جائے۔

اجلاس میں رازگیر فیلڈ سے تھرڈ پارٹی کو گیس کی فروخت میں پیٹرولیم پالیسی 2012 کی خلاف ورزی کے معاملے کو بھی وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی سفارش کی گئی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی یومیہ کھپت 600 ٹن ہے۔ صوبہ ملک کی مجموعی ایل پی جی پیداوار کا 38 فیصد فراہم کر رہا ہے۔

اجلاس میں سفارش کی گئی کہ ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت خیبرپختونخوا کے لیے پیداوار کا 10 فیصد مختص کیا جائے، 75 ٹن یومیہ ایل پی جی کی یہ مختص مقدار ملنے سے تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار گھرانوں کی سالانہ ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے لیے 10 فیصد ایل پی جی مختص کرنے سے سالانہ تقریباً 2440 ہیکٹر جنگلات کی کٹائی روکی جا سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے آئینی و مالی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تمام متعلقہ معاملات مضبوط اور باضابطہ طور پر اٹھائے جائیں اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت سے مطلوبہ ریلیف نہ ملنے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے حقوق کے حصول کے لیے معاملات عدالتوں میں لے جائے جائیں۔