زین کی موت کا معاملہ، ورثا کا ٹریفک وارڈن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
نوجوان کی موت کے بعد بھی انہیں مبینہ طور پر مشکلات کا سامنا ہے اور تاحال لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔اہلخانہ
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
لاہور: شادمان کے علاقے میں مبینہ ٹریفک حادثے کے بعد نوجوان محمد زین کی موت کے معاملے میں اہلخانہ نے ٹریفک وارڈن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انصاف اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق محمد زین نجی کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا اور واقعے سے تقریباً تین ہفتے قبل ہی اس کی منگنی ہوئی تھی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ نوجوان کی موت کے بعد بھی انہیں مبینہ طور پر مشکلات کا سامنا ہے اور تاحال لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔
متوفی کے بھائی کے مطابق انہیں مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ تحریری طور پر یہ بیان دیں کہ حادثے میں غلطی زین کی تھی، جس کے بعد لاش حوالے کی جائے گی۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ متوفی کی میت جنرل اسپتال میں موجود ہے۔
اہلخانہ کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور متعلقہ تھانے میں درخواست بھی دی گئی، تاہم ان کے مطابق تاحال ان کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 اگست 2026 کو شام تقریباً ساڑھے 5 سے 6 بجے کے درمیان محمد زین موٹر سائیکل پر شادمان مارکیٹ میں واقع اپنے دفتر جا رہا تھا۔ درخواست کے مطابق شادمان کے علاقے میں موجود ایک سینئر ٹریفک وارڈن نے مبینہ طور پر اسے روکنے کی کوشش کے دوران سڑک کے درمیان آکر دھکا دیا، جس کے باعث نوجوان موٹر سائیکل سمیت زمین پر گرا اور گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا۔
اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ حادثے کے نتیجے میں محمد زین کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ بعد ازاں اسے سرکاری گاڑی کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا اور دماغ کا آپریشن بھی کیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ ٹریفک وارڈن نے اپنے دفاع میں ایک مقدمہ درج کروایا، جبکہ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل صورتحال سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوسکتی ہے۔
متوفی کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر ٹریفک وارڈن کو موٹر سائیکل سوار نوجوان کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت زین کے دفتر کے ساتھیوں اور دیگر راہگیروں نے بھی صورتحال دیکھی۔
درخواست میں اہلخانہ نے نوجوان کے زیر استعمال موٹر سائیکل، پرس، رقم، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی پولیس کے پاس ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلخانہ نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ طور پر ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں اہلخانہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ پولیس کا مؤقف بھی مکمل طور پر سامنے آنا باقی ہے۔