بچوں کو امریکی پاسپورٹ دلانے کیلئے والدین کو خود اپنی شہریت ثابت کرنا پڑے گی،ٹرمپ کا نیا قانون
محکمہ خارجہ والدین کی فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کی بنیاد پر یہ تعین کرے گا کہ آیا متعلقہ بچہ صدر ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے بچوں کے پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں والدین کی شہریت یا امیگریشن حیثیت کے ثبوت کو لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کردی ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی حقِ شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محکمہ خارجہ کی تیار کردہ مسودہ رہنمائی میں تجویز دی گئی ہے کہ والدین یا قانونی سرپرست جب اپنے بچوں کے امریکی پاسپورٹ کے لیے درخواست دیں تو انہیں اپنی شہریت یا امیگریشن حیثیت سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
مسودے کے مطابق محکمہ خارجہ والدین کی فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کی بنیاد پر یہ تعین کرے گا کہ آیا متعلقہ بچہ صدر ٹرمپ کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔
تجویز کے تحت والدین کو امریکی شہریت ثابت کرنے کے لیے درست امریکی پاسپورٹ یا پیدائشی سرٹیفکیٹ جیسی دستاویز پیش کرنا پڑسکتی ہے، جبکہ غیر امریکی والدین سے I-94 فارم یا قانونی مستقل رہائش کے کارڈ سمیت امیگریشن حیثیت کا ثبوت طلب کیا جاسکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ مسودہ صدر ٹرمپ کے 6 اگست کے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے ممکنہ طریقہ کار کی تفصیلی جھلک پیش کرتا ہے۔ اس حکم کا ایک اہم ہدف نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ ہے، جس میں غیر ملکی خواتین بچے کی پیدائش کے لیے امریکا کا سفر کرتی ہیں تاکہ بچے کو امریکی شہریت مل سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکی شہریت کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور پیدائشی حقِ شہریت کے غلط استعمال کو روکا جائے۔ تاہم اس پالیسی کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو آرڈر میں پیدائش کے وقت خودکار امریکی شہریت کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اس اقدام کو آئینی تحفظات کی بنیاد پر روکا تھا۔
نئے حکم میں بعض مخصوص حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں ایسے بچے شامل ہوسکتے ہیں جن کے والدین امریکا میں کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کر رہے ہوں، شہریت حاصل کرنے کے لیے مبینہ دھوکا دہی یا بعض تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہوں، یا انہیں ’اجنبی دشمن‘ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہو۔
محکمہ خارجہ کے مطابق اگر نئی تجویز نافذ ہوتی ہے تو پاسپورٹ درخواست کے موجودہ طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس وقت امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین سے بنیادی طور پر والدین کا رشتہ ثابت کرنے اور شناختی دستاویزات پیش کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے، جبکہ والدین کی شہریت کے معاون ثبوت ہر صورت میں جمع کرانا ضروری نہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے پہلے حکم کے نتیجے میں شہریت سے متاثر ہونے والے بچوں کی جانب سے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا نے نئے حکم پر عمل درآمد روکنے کے لیے مختلف وفاقی عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی یہ تجویز ابھی مسودے کی سطح پر ہے، اس لیے اس کے حتمی نفاذ اور قانونی حیثیت میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔