بادشاہ اور ایشا رکھی کی طلاق میں ہانیہ عامر کا نام کیوں سامنے آگیا؟

دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر رابطہ اور دوستی کے بعد متعدد مواقع پر ان کے تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔

September 3, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارتی ریپر بادشاہ اور پنجابی اداکارہ ایشا رکھی کی مختصر ازدواجی زندگی کے اختتام کے بعد پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کا نام بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے لگا ہے، تاہم دونوں کے درمیان علیحدگی میں ہانیہ عامر کے کسی کردار کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

بادشاہ اور ایشا رکھی نے حال ہی میں مشترکہ بیان کے ذریعے اپنے راستے الگ کرنے کی تصدیق کی۔ دونوں کے مطابق یہ فیصلہ باہمی رضامندی اور احترام کے ساتھ کیا گیا اور انہوں نے مداحوں سے درخواست کی کہ ان کی نجی زندگی سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ جوڑے نے علیحدگی کی وجہ بھی واضح نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق بادشاہ اور ایشا رکھی نے مارچ 2026 میں قریبی عزیزوں کی موجودگی میں شادی کی تھی۔ شادی کی خبر اس وقت سامنے آئی جب ایشا کی والدہ پونم رکھی نے تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ بعد ازاں ایشا نے بھی مداحوں کے ساتھ گفتگو کے دوران اپنی شادی کی تصدیق کی۔

ہانیہ عامر کا نام بادشاہ کے ساتھ ان کی پرانی دوستی کے باعث لیا جا رہا ہے۔ دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر رابطہ اور دوستی کے بعد متعدد مواقع پر ان کے تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔

اپریل 2024 میں ہانیہ عامر نے دبئی میں بادشاہ کے ساتھ ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی تھیں، جس کے بعد دونوں کی ڈیٹنگ سے متعلق افواہوں نے مزید زور پکڑا۔ تاہم ہانیہ عامر اور بادشاہ دونوں ان افواہوں کی تردید کرچکے ہیں۔

2024 میں بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہانیہ عامر نے بادشاہ کو اپنا اچھا دوست قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بادشاہ نے بھی ہانیہ کو اچھی دوست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں کے درمیان مضبوط دوستی ہے، تاہم لوگ ان کے تعلق کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

بادشاہ کی اس سے قبل جیسمین مسیح سے شادی ہوئی تھی۔ دونوں نے 2012 میں شادی کی تھی اور 2020 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس رشتے سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔

بادشاہ اور ایشا رکھی کی موجودہ علیحدگی کے حوالے سے ہانیہ عامر کا نام اگرچہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، لیکن دونوں کے درمیان طلاق کی وجہ یا ہانیہ عامر کے کسی کردار سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی۔