آیت نور کیس کا ازسرنوجائزہ ، نئی تحقیقات کی جائیں۔ہری پورمیں جرگہ
مقامی ایم این اے نے ملزمان کی گرفتاری پر سوالات اٹھادیئے
ہری پور جرگہ
رپورٹ: یاور حیات
امن فورم کے زیر اہتمام دارالعلوم علی المرتضیٰ، پکی ڈولی، سرائے صالح ہری پور میں امن مشاورتی جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف یونین کونسلز اور ویلج کونسلز کے نمائندگان، علمائے کرام، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔
جرگے کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہری پور میں بڑھتے ہوئے جرائم پر، جن میں قتل و غارت گری، منشیات، ڈکیتی اور چوری سمیت مختلف جرائم شامل ہیں، انتظامیہ کی مبینہ خاموشی اور غفلت تشویشناک ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو امن و امان کی صورتحال پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
آیت نور کیس کے حوالے سےجرگے میں ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ہری پور کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ آیت نور کیس میں اب تک ہونے والی تفتیش اور انتظامی و پولیس اقدامات کا صوبائی اور قومی سطح پر جائزہ لیا جائے، بالخصوص اس امر کی تحقیقات کی جائیں کہ بچی کی تلاش اور کیس کی تفتیش کے دوران کہیں انتظامی یا پولیس غفلت تو نہیں ہوئی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں اگر ضلعی انتظامیہ یا پولیس کے کسی افسر کا کردار متنازع یا مشکوک سمجھا جا رہا ہے تو شفاف تحقیقات کے مفاد میں انہیں تفتیشی عمل سے الگ کیا جائے اور صوبائی سطح پر، عدالتی نگرانی میں ایک آزاد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم یا جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، جو کیس کی ازسرنو اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے۔
جرگے میں کہا گیا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ بھی واضح کیا جائے کہ کیس کے مختلف مراحل میں کہاں کہاں غفلت ہوئی اور اگر کسی سرکاری اہلکار یا افسر کی کوتاہی ثابت ہو تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جس طرح اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے، اسی طرح کسی بے گناہ شخص کو محض شک، دباؤ یا ناقص تفتیش کی بنیاد پر مجرم قرار دینے سے بھی ہر صورت بچنا ہوگا۔
جرگے میں بعض میڈیا رپورٹس اور صحافتی دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گرفتار کیے گئے بعض افراد کے بارے میں ان کے واقعے میں ملوث ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ان تمام دعووں اور شواہد کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور اصل ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔
دریں اثنا،آیت نورکیس نے نیارخ لے لیا۔ مقامی ایم این اے نے ملزمان کی گرفتاری پر سوالات اٹھادیئے۔ کیااصل مجرم اب تک آزاد ہیں،پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ایک نکتے نے معاملہ الجھادیا۔ہری پورسے رکن قومی اسمبلی بابرنوازخان کا کہناہے کہ پانچ لوگوں کے ملوث ہونے کا ڈی پی اونے خود بتایاتھالیکن صرف چار گرفتار ہوئے۔پانچواں کون اور کہاں ہے۔اگر زیادتی اور قتل فیکٹری گراؤنڈ میں ہوا تو لاش اور بچی کی چپل نصف سے ایک کلومیٹر دور کنویں تک کیسے پہنچی۔ان کا مزید کہناہے کہ پولیس کے سربراہ نے ایک پلاٹ سے بچی کا سامان ملنے کی بات کہی تھی۔ میڈیا کو وہ جگہ یاسامان کیوں نہیں دکھایاگیا۔مقتولہ کے والد سے دفعہ164کا بیان اس وقت دلایاگیا جب مبینہ مرکزی ملزم نے ابھی کوئی بیان ہی نہیں دیاتھا۔یہ ملزم وہ لڑکا ہے جوبچی کو بلاکر لے گیا تھا۔ ایم این اے کاکہناہے کہ وہ چودہ دن بعد گرفتار ہواتھا۔پہلے تین ملزمان کو کس کی نشاند ہی پرپکڑا گیا ۔
ذرائع کا کہناہے کہ پولیس نے غیر سنجیدہ تفتیش کی اور بے گناہ لڑکوں کو کیس میں پھنسادیا۔ان میں سے ایک طلحہ حافظ قرآن ہے۔اس کے والد کاموقف ہے کہ بیٹے کے خلاف کوئی فوٹیج یا ایسا ثبوت موجودنہیں جواسے ملوث ظاہر کرتاہو۔یہ بھی کہا جارہاہے کہ عوامی احتجاج اور دبائو پر محلے کے درجن بھر بچوں کو اٹھاکرانہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
بابرنواز نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ایک اہم پہلو کا حوالہ دیاہے۔ ان کے مطابق، اس میں لکھاگیاہے کہ بچی کی لاش سات سے دن پرانی تھی۔ یعنی وہ چار دن تک زندہ رہی۔انہوں نے ڈی این اے رپورٹ کو بھی سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے ڈی این اے میچ نہیں ہوا۔اور شواہد مٹائے گئے ہیں۔