مری میں ماں نے اپنے ڈھائی ماہ کے بچے کو نالے میں کیوں پھینکا،اصل وجہ سامنے آگئی

معاشی تنگدستی یا گھریلو جھگڑا نہیں، ذہنی توازن متاثر ہونے کا دعویٰ سامنے آگیا

September 4, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

مری میں ماں کی جانب سے اپنے ہی ڈھائی ماہ کے بچے کو نالے میں پھینک کر موت کے حوالے کرنے کے واقعے کی اصل صورت حال سامنے آ گئی ہے۔ درج ایف آئی آر کے تحت خاتون زیرِحراست ہے۔

یہ المناک واقعہ معاشی تنگدستی یا گھریلو جھگڑے کا شاخسانہ نہیں۔ مری پولیس نے اپنے بچے کی موت کی ذمہ دار نبیلہ کوثر کو اس کے شوہر جہانگیر کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر حراست میں لے لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک بینک میں آفس بوائے کا کام کرتا ہے۔ 2 ستمبر کو ڈیوٹی سے گھر واپس آ رہا تھا کہ اس کے سسر ظہور نے فون پر اطلاع دی کہ نبیلہ نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے، ڈھائی ماہ کے مجتبیٰ کو بلوال نالے میں زندہ پھینک دیا ہے، جسے اہلِ محلہ مل کر تلاش کر رہے ہیں۔

مری پولیس کے مطابق سرچ آپریشن میں پولیس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا، جس کے بعد نالے سے بچے کی لاش برآمد کر لی گئی۔

جہانگیر کے مطابق اس کی بیوی نبیلہ کوثر کا دماغی توازن درست نہیں، جس کی وجہ سے اس سے یہ جرم سرزد ہوا۔ ابتدائی تفتیش اور خاندانی ذرائع کے مطابق نبیلہ اور جہانگیر کی شادی 10 برس قبل ہوئی تھی۔ دونوں کے سات بچوں میں سے ڈھائی ماہ کا مجتبیٰ سب سے چھوٹا تھا۔

ابتدائی بیان میں ملزمہ نے کہا تھا کہ وہ اتنے بچے نہیں پال سکتی، جس سے یہ تاثر ملا کہ اس نے یہ اقدام غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیا ہے، تاہم اہلِ محلہ کے مطابق مذکورہ خاندان مالی طور پر کسی پریشانی کا شکار نہیں۔

ڈی پی او مری کے مطابق پولیس کیس کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔