کراچی کے قومی ادارہ صحت اطفال میں فائرسیفٹی کی سنگین خامیوں کاانکشاف
فائر سیفٹی آڈٹ میں این آئی سی ایچ کی تین منزلوں کو انتہائی خطرناک قراردیا گیا
فائل فوٹو
کراچی کے قومی ادارہ صحت اطفال (این آئی سی ایچ) کے نیونٹل آئی سی یو میں فائر سیفٹی کے حوالے سے سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسپتال کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزلیں انتہائی خطرناک ہیں جبکہ نیونٹل آئی سی یو میں بجلی اور آکسیجن پوائنٹس انتہائی قریب نصب ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آکسیجن لائن میں لیکج موجود ہے اور پائپ کے جوڑوں پر ٹیپ لگا کر کام چلایا جارہا ہے، جبکہ کھلی اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ بھی فائر رسک ہے۔ اسپتال کا فائر الارم سسٹم غیر فعال اور بیشتر اسموک ڈیٹیکٹرز بھی کام نہیں کر رہے۔
فائر ایکسٹنگوشرز ناکافی ہیں، عملے کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی گئی اور باقاعدہ فائر ڈرلز بھی نہیں ہوتیں۔
آڈٹ کے مطابق ایمرجنسی ایگزٹس سامان اور کچرے سے بند ہیں، پاور روم تک عوام کی آسان رسائی ہے اور وہاں اسموک ڈیٹیکٹر سمیت مناسب فائر فائٹنگ انتظامات موجود نہیں۔ نیونٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم بھی غیر فعال ہے جبکہ پرانے اے سی یونٹس کی وائرنگ کھلی اور عارضی نوعیت کی ہے۔
فائر سیفٹی آڈٹ میں بجلی، آکسیجن اور وینٹی لیشن سسٹم فوری محفوظ بنانے، فائر الارم اور اسموک ڈیٹیکشن سسٹم فعال کرنے، ایگزٹس سے رکاوٹیں ہٹانے اور فائر ڈرلز کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔