ہائی جیکر کون؟ اسرائیلی شہریوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کا اعتراف کرلیا

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں ہنگامی صورتحال، مسافروں نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

September 30, 2026 · بام دنیا
طیارے کا کنٹرول سنبھالنے والا اسرائیلی مسافر نیتن یاہو کو تفصیل بتا رہا ہے

طیارے کا کنٹرول سنبھالنے والا اسرائیلی مسافر نیتن یاہو کو تفصیل بتا رہا ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بین گوریون ہوائی اڈے پر ان مسافروں سے ملاقات کی ہے جو سعودی عرب سے بذریعہ خصوصی پرواز اسرائیل پہنچے ہیں۔ یہ مسافر دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سوار تھے جس میں ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پر چاقو سے حملہ کیا تھا اور طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کا پائلٹ بظاہر جہاز کو مسافروں کے ہمراہ کریش کرنا چاہتا تھا۔

بدھ کے روز دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ تقریباً 150 مسافروں کو لے جا رہا تھا، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود دو پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا اور ایک پائلٹ پر چاقو سے وار کیا گیا تھا۔ بدھ کے روز نیتن یاہو نے اس واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ جس پائلٹ نے چاقو زنی کی اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں کو متبادل طیارے میں تبوک سے تل ابیب منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں انھیں مسافروں سے گلے ملتے اور ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک شخص نے خون آلود ٹی شرٹ پہن رکھی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ یہ کیپشن درج ہے کہ یانیو، جو دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران کاک پٹ میں داخل ہوئے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو یانیو سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے یہ سب کیسے کیا۔ جواب میں یانیو کہتے ہیں کہ کاک پٹ کا دروازہ کھولنا آسان نہیں تھا کیونکہ زخمی پائلٹ دروازے کے بالکل قریب موجود تھے۔ ان کے بقول جس پائلٹ کو چاقو مارا گیا تھا، وہ دروازے کے بہت قریب تھے، اس لیے ہمارے لیے دروازہ کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پائلٹ کے گرنے سے پہلے دروازہ کھل گیا۔

یانیو نے کہا کہ جب میں اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ حملہ آور کاک پٹ میں آلات کے اوپر جھکے ہوئے تھے اور پائلٹ اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے۔ ایک پائلٹ نیچے گرے ہوئے تھے اور دوسرے کاک پٹ کے آلات پر گرے پڑے تھے۔ میرے ساتھ ایک اور شخص بھی اندر آئے تھے۔ میں نے حملہ آور کو پکڑا، اور گردن کو جکڑ کر انھیں کاک پٹ سے باہر کھینچا۔ ان کے مطابق حملہ آور طیارے کو ناکارہ بنانے کے لیے کاک پٹ میں نصب آلات کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یانیو نے بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے طیارے میں موجود اسرائیلی مسافروں کو آواز دی اور سب نے مل کر حملہ آور کو قابو میں رکھا تاکہ وہ دوبارہ کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔ یانیو نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا کہ انھوں نے طیارے کے کنٹرول بھی سنبھالے کیوں کہ وہ طیاروں کے حادثوں کی تحقیقات سے متعلق ویڈیوز دیکھا کرتے تھے۔ یانیو کے مطابق انھوں نے پائلٹ کے طیارہ سنبھالنے تک کنٹرولز کو تھامے رکھا۔

اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔ بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارہ کا رخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔ فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ پرواز کو سفر کے دوران ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم تمام مسافر محفوظ ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن فلائی دبئی کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1073 بدھ کو علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے کوڈ نمبر 7700 نشر کیا گیا، جو ہنگامی صورتحال کی نشان دہی کرتا ہے۔ کچھ ہی منٹ بعد طیارے نے کوڈ نمبر 7500 بھی نشر کیا، جو عموماً طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ جیسے واقعے کی اطلاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں بدل دیا گیا۔

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں اچانک تیزی سے بلندی کم کرنا شروع کر دی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10:21 بجے کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آ گیا۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی۔ تل ابیب جانے والی اس پرواز نے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔