کینیا کا بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم

کمپنی ملک کے قدرتی وسائل سے مطلوبہ معاشی فائدہ حاصل کرنے کے باوجود مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہی۔

September 6, 2026 · بام دنیا
کینیا کا بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم

کینیا کا بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم

نیروبی: کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کاروباری گروپ ٹاٹا سے وابستہ کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک میں اپنی سرگرمیاں ختم کرکے نکلنے کا حکم دیا ہے۔
کینیا کے صدر کا کہنا ہے کہ کمپنی ملک کے قدرتی وسائل سے مطلوبہ معاشی فائدہ حاصل کرنے کے باوجود مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہی۔
ولیم روٹو نے کاجیادو کاؤنٹی کے دورے کے دوران کہا کہ ٹاٹا کیمیکلز جھیل مگاڈی سے حاصل ہونے والی سوڈا ایش کو مقامی سطح پر مزید پراسیس کرنے کے بجائے بیرون ملک برآمد کر رہی ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے کمپنی کی جگہ نئے سرمایہ کار لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مقامی سطح پر صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
صدر روٹو نے الزام عائد کیا کہ ٹاٹا کیمیکلز طویل عرصے سے مگاڈی میں کام کر رہی ہے، تاہم اس نے مقامی سطح پر مطلوبہ صنعتی انفراسٹرکچر قائم نہیں کیا۔
دوسری جانب ٹاٹا کیمیکلز نے کینیا حکومت کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی حکومتی فیصلے کا احترام کرتی ہے اور زیرِ بحث معاملات کے حل کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کے تحت حکام سے بات چیت جاری رکھے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ 2005 میں مگاڈی پلانٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اس نے کینیا کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور یہ منصوبہ اس کے کاروبار کا اہم حصہ ہے۔
جھیل مگاڈی پر قائم ٹاٹا کیمیکلز کا پلانٹ سوڈا ایش تیار کرتا ہے، جو شیشہ سازی سمیت متعدد صنعتی شعبوں میں استعمال ہونے والا اہم خام مال ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے مگاڈی آپریشنز میں تقریباً 500 افراد براہِ راست ملازمت کرتے ہیں جبکہ علاقے میں اس کے سماجی منصوبوں سے ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں۔
کینیا کی حکومت اور کمپنی کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب تقریباً پانچ ہفتے قبل ملک کی وزارتِ کان کنی نے ٹاٹا کیمیکلز مگاڈی کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت کی۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کی وجوہات میں رائلٹی کی ادائیگی اور دیگر ضابطہ جاتی معاملات شامل تھے۔
کمپنی نے اس وقت بھی حکام کو اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے متعلقہ ضابطوں کی پاسداری سے متعلق ضروری معلومات فراہم کردی ہیں اور وہ حکومتی دستاویزات کے جائزے اور آئندہ ہدایات کی منتظر ہے۔
جھیل مگاڈی میں سوڈا ایش کی پیداوار کا منصوبہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے۔ یہاں صنعتی سرگرمیوں کا آغاز 1911 میں ہوا تھا جبکہ 1928 میں کینیا کی حکومت کے ساتھ کان کنی سے متعلق ایک اہم معاہدہ کیا گیا۔
ٹاٹا کیمیکلز نے 2005 میں برطانوی کمپنی برونر مونڈ گروپ کے حصول کے ذریعے مگاڈی کے منصوبے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔
تاہم کینیا حکومت کے تازہ فیصلے کے بعد ٹاٹا کیمیکلز کے ملک میں مستقبل اور مگاڈی پلانٹ کی آئندہ ملکیت و انتظام سے متعلق صورتحال اب حکومتی اقدامات اور کمپنی کے درمیان جاری قانونی و ضابطہ جاتی رابطوں پر منحصر ہوگی۔