مصر:معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت

ملزمان پر غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے

September 6, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

قاہرہ: مصر کی قاہرہ فوجداری عدالت نے معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی۔

عدالت نے ہفتہ 5 ستمبر کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سارہ خلیفہ اور دیگر 11 ملزمان کو منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کے لیے مبینہ طور پر منظم مجرمانہ گروہ تشکیل دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ فیصلے کے مطابق ملزمان پر غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے

39 سالہ سارہ خلیفہ مصر میں ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسیبل‘ کی میزبانی کے باعث معروف ہیں، جس میں جرائم، سکیورٹی اور سماجی مسائل سے متعلق موضوعات زیر بحث آتے تھے۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان پر بیرونِ ملک سے مصنوعی منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال غیر قانونی طریقے سے مصر لانے، منشیات تیار کرنے اور انہیں فروخت و اسمگل کرنے کے لیے ایک منظم نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا۔

مصری حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 750 کلوگرام سے زائد منشیات اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال ضبط کیا گیا، جبکہ دو رہائشی اپارٹمنٹس میں مبینہ طور پر خفیہ لیبارٹریاں قائم ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔ کارروائی کے دوران غیر لائسنس یافتہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

یہ مقدمہ مجموعی طور پر 28 افراد کے خلاف چلایا گیا۔ عدالت نے سارہ خلیفہ سمیت 12 ملزمان کو سزائے موت، 9 کو عمر قید سنائی جبکہ 7 افراد کو بری کردیا۔

عدالت نے سزائے موت سنانے سے قبل مصر کے مفتی اعظم سے شرعی رائے بھی حاصل کی، جو ملک کے قانونی طریقہ کار کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں ضروری مرحلہ ہے۔ تاہم مفتی اعظم کی رائے حتمی عدالتی فیصلے کے بجائے مشاورتی نوعیت رکھتی ہے۔

سارہ خلیفہ اور دیگر سزا یافتہ افراد کو فیصلے کے خلاف قانونی اپیل کا حق حاصل ہے، اس لیے موجودہ فیصلہ فوری طور پر حتمی اور ناقابلِ تنسیخ سزا نہیں سمجھا جاتا۔ سارہ خلیفہ کے وکیل نے بھی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علاوہ ازیں عدالت نے سارہ خلیفہ اور بعض دیگر ملزمان کو ایک الگ مقدمے میں ایک نوجوان کے اغوا اور تشدد سے متعلق کیس میں پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔