مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے بوسنیا کے قصاب کی فوجی اعزاز کیساتھ آخری رسومات

رَتکو ملادیچ 27 اگست کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں 84 برس کی عمر میں اس وقت ہلاک ہوا جب وہ اپنی عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔

September 8, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

 بلغراد: مسلم نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم میں اقوام متحدہ کے زیر حراست عمر قید کی سزا کاٹنے کے دوران ہلاک ہونے والے 84 سالہ رَتکو ملادیچ کی فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کردی گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 84 سالہ رَتکو ملادیچ کی میت پیر کو سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے سینٹ لیوک چرچ میں آخری دیدار کے لیے رکھی گئی جہاں ہزاروں افراد اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پہنچے۔

سرب النسل سابق فوجی کمانڈر رتکو ملادیچ کی لاش تابوت میں رکھی گئی جبکہ اس کی فوجی ٹوپی اور تلوار بھی تابوت کے ساتھ رکھی گئی۔ فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکار تابوت کے اطراف موجود رہے۔

سربیا کے حکومت نواز ذرائع ابلاغ کے مطابق ملادیچ کو مکمل فوجی اعزاز دیا جائے گا جبکہ سرب آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک پورفیریے آخری رسومات کی مذہبی تقریب کی قیادت کریں گے۔

رَتکو ملادیچ کو بوسنیا کی جنگ کے دوران اس کے کردار اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے بوسنیا کا قصاب کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سربیا میں قوم پرست حلقوں کا ایک طبقہ آج بھی اسے ہیرو سمجھتا ہے۔

جنازے میں شامل سرب افراد کا کہنا تھا کہ رتکو ملادیچ نے اپنی پوری زندگی سرب عوام کے لیے وقف کردی تھی جب کہ بلغراد میں فٹ بال میچ کے دوران شائقین نے ملادیچ کی بڑی تصویر کا بینر آویزاں کیا اور اس کے نام کے نعرے لگائے۔

رَتکو ملادیچ بوسنیائی سرب فوج کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر تھا۔ 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ میں اس نے سرب افواج کی قیادت کی۔

اقوام متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔

2017 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے اسے 1995 میں سربرینیتسا میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل، دارالحکومت سرائیوو کے طویل محاصرے اور دیگر سنگین جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا۔

ملادیچ 27 اگست کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں 84 برس کی عمر میں اس وقت ہلاک ہوا جب وہ اپنی عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔