امریکہ چھوڑ کر برطانیہ لوٹنے والے ہیری اور میگھن کو شاہی خاندان میں لینے سے بادشاہ کا انکار

شاہ چارلس کی جانب سے شاہی نمائندوں، حکومتی شخصیات اور فوجی حکام کو ایک خط بھیجا گیا ہے، جس میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے

September 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن: برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم نے اپنے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی شاہی حیثیت کے حوالے سے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ دونوں کو شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق شاہ چارلس کی جانب سے شاہی نمائندوں، حکومتی شخصیات اور فوجی حکام کو ایک خط بھیجا گیا ہے، جس میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیوک اور ڈچز آف سسکس کی جانب سے انجام دی جانے والی فلاحی اور خیراتی سرگرمیاں ان کی ذاتی حیثیت میں ہوں گی اور انہیں شاہی خاندان کی سرکاری سرگرمیوں کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا۔

خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہیری اور میگھن کسی عوامی تقریب میں شریک ہوتے ہیں تو ان کی شرکت کو برطانوی شاہی خاندان کی سرکاری نمائندگی تصور نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سرکاری اداروں اور متعلقہ حکام کو بھی کسی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شاہی حکام کے مطابق ہیری اور میگھن کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دونوں کے لیے شاہی عظمت سے متعلق اعزازی خطابات کے استعمال پر پہلے سے عائد پابندی برقرار ہے اور انہیں سرکاری طور پر ان خطابات سے مخاطب نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن کی سرگرمیوں پر عوامی خزانے سے اخراجات نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اس طرح شاہی محل نے واضح کردیا ہے کہ جوڑا اگر مستقبل میں فلاحی، سماجی یا عوامی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے تو یہ سرگرمیاں ان کی نجی حیثیت میں شمار ہوں گی۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے 2020 میں شاہی خاندان کے فعال فرائض سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد دونوں برطانیہ سے امریکا منتقل ہوگئے تھے۔ شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کے بعد جوڑے نے اپنی نئی زندگی امریکا میں شروع کی اور بعد ازاں مختلف مواقع پر شاہی خاندان کے ساتھ اپنے اختلافات اور ذاتی تجربات پر بھی کھل کر گفتگو کی۔

ہیری اور میگھن کی جانب سے شاہی فرائض سے الگ ہونے کے وقت ایک ایسا ماڈل اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے تحت وہ محدود سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نجی اور تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رکھ سکتے تھے۔ تاہم یہ طرزِ عمل اس وقت کی ملکہ الزبتھ دوم کی جانب سے قبول نہیں کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں ہیری اور میگھن نے شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دیں اور برطانیہ سے امریکا منتقل ہوگئے۔ دونوں کی جانب سے بعد میں شاہی خاندان کے حوالے سے متعدد بیانات سامنے آئے، جن میں شاہی زندگی کے دوران پیش آنے والے معاملات پر بھی بات کی گئی۔

حالیہ عرصے میں ہیری اور میگھن کی اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ واپسی نے ایک بار پھر ان کے شاہی خاندان سے تعلق اور مستقبل کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوڑا برطانیہ میں عوامی تقریبات میں شرکت اور مختلف سماجی سرگرمیوں میں نمایاں ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہزادہ ہیری محدود نوعیت کی سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تجارتی مواقع میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم شاہ چارلس کی جانب سے تازہ وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فی الحال شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے دونوں کی واپسی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

شاہی خاندان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ سے منتقلی کے بعد ان کی حیثیت اور سرکاری معاملات سے متعلق رہنمائی کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ اسی تناظر میں موجودہ صورتحال کو واضح کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو باضابطہ ہدایات دی گئی ہیں۔

تازہ پیش رفت کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ شاہ چارلس اپنے بیٹے اور بہو کو ذاتی حیثیت میں زندگی گزارنے کی آزادی تو دے رہے ہیں، تاہم انہیں شاہی خاندان کی جانب سے سرکاری نمائندگی، شاہی فرائض یا عوامی وسائل کے استعمال کی اجازت دینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔