عرب ممالک نے تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے ڈھونڈ لیے

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اسی سبب 100 ڈالر سے اوپر نہیں گئی

September 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سنگاپور: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باوجود خلیجی عرب ممالک نے عالمی منڈی تک خام تیل پہنچانے کے لیے متبادل راستے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی مکمل طور پر متاثر ہونے سے بچ گئی ہے۔

عالمی توانائی منڈی کے تازہ جائزوں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک مختلف پائپ لائنز، بندرگاہوں اور متبادل بحری راستوں کے ذریعے اپنی برآمدات جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر پر واقع یَنبُع بندرگاہ اہم متبادل راستہ بن چکی ہے۔ سعودی عرب کی مشرقی تیل تنصیبات کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ سے ملانے والی مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کیا جاسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے ابوظبی سے فجیرہ تک جانے والی خام تیل کی پائپ لائن استعمال کر رہا ہے۔ یہ راستہ تیل کو خلیج فارس سے باہر بحرِ عمان کے ساحل تک پہنچاتا ہے، جہاں سے اسے عالمی منڈی کے لیے بحری جہازوں کے ذریعے روانہ کیا جاسکتا ہے

توانائی کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ پائپ لائنز میں مجموعی طور پر تقریباً 35 لاکھ سے 55 لاکھ بیرل یومیہ تک اضافی گنجائش موجود ہوسکتی ہے، تاہم یہ گنجائش آبنائے ہرمز سے گزرنے والی مجموعی سپلائی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی

دوسری جانب سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے یَنبُع سمیت دیگر راستوں پر انحصار بڑھایا ہے، جبکہ مصر کی سیدی کیر بندرگاہ اور سویز کے نظام کو بھی متبادل ترسیلی راستے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

خلیجی ممالک بعض مقامات پر آبنائے ہرمز سے باہر بحری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی کے طریقے بھی استعمال کر رہے ہیں، جس سے متاثرہ راستے پر انحصار کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی اہم وجہ بھی سمجھی جارہی ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی مجموعی ترسیل میں نمایاں کمی کے باوجود عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت مستقل طور پر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر نہیں گئی۔

ماہرین کے مطابق متبادل برآمدی راستوں کے ساتھ ساتھ امریکا، کینیڈا اور گیانا جیسے ممالک کی اضافی پیداوار اور چین میں تیل کی طلب میں کمی نے بھی عالمی منڈی پر دباؤ کم کیا ہے۔ تاہم جسمانی تیل کی منڈی میں سپلائی اب بھی سخت ہے اور اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ طویل ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

یوں خلیجی ممالک کی جانب سے متبادل پائپ لائنز، بندرگاہوں اور بحری راستوں کا استعمال عالمی تیل کی سپلائی کو مکمل تعطل سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اگرچہ موجودہ متبادل نظام آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی پوری ترسیل کا مکمل متبادل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔