سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز تین ماہ سے تنخواہوں اور وظائف سے محروم

سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈاکٹروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 28, 2026 · اہم خبریں
سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈاکٹروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈاکٹروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں ہاؤس آفیسرز گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور وظائف سے محروم ہیں جس کے باعث ڈاکٹروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی ادائیگی پالیسی کے نفاذ کے بعد سندھ بھر میں ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں کی ادائیگیاں تعطل کا شکار ہیں اور 100 روز سے زائد گزرنے کے باوجود واجبات ادا نہیں کیے جاسکے۔ مئی 2026 میں ہاؤس آفیسرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی، جس کے تحت پہلے کی طرح اسپتال کے ذریعے چیک دینے کے بجائے ہاؤس آفیسرز کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ (اے جی سندھ) کو تمام مطلوبہ فارمز اور ڈیٹا فراہم کرنے کے باوجود تاحال ادائیگیاں جاری نہیں ہو سکیں۔ کراچی کے سول اسپتال میں ہاؤس آفیسرز کی تعداد تقریباً 280، جبکہ جناح اسپتال میں 700 سے زائد ہاؤس آفیسرز اور 450 سے زائد پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس صورتحال پر جناح اسپتال کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر شاہد اعوان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بقایا وظائف فوری طور پر ادا کیے جائیں، بصورت دیگر اسپتالوں میں باقاعدہ احتجاج اور او پی ڈیز کے مکمل بائیکاٹ کا آغاز کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہوگی۔