حکومت نے11 ماہ میں آئی پی پیرکو29 کھرب35 ارب روپے ادا کیے

وزارت توانائی نے پارلیمنٹ میں آئی پی پیز کو ادائیگیوں کی تفصیلات پیش کردیں

September 8, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ، جولائی 2025 سے مئی 2026 تک، آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو مجموعی طور پر 29 کھرب 35 ارب روپے ادا کیے۔

وزارتِ توانائی کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق،ان ادائیگیوں میں 11 کھرب 68 ارب روپے انرجی پیمنٹس جبکہ 15 کھرب 65 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔ جون 2026 کی بلنگ کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔

وزارتِ توانائی نے واضح کیا کہ حکومت نے آئی پی پیز کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں یا بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں طے شدہ نرخوں سے زیادہ ادائیگیاں نہیں کیں۔

دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں پن بجلی گھروں نے 34 ہزار 234 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جس کے لیے 375 ارب 4 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

جوہری بجلی گھروں نے 21 ہزار 31 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جبکہ حکومت نے ان کو 469 ارب 44 کروڑ روپے ادا کیے۔درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 12 ہزار 48 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی اور انہیں 637 ارب 91 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 16 ہزار 97 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جنہیں 527 ارب 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 10 ہزار 588 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جبکہ انہیں 200 ارب 84 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ہوا سے بجلی پدا کرنے والے پلانٹس نے 3 ہزار 804 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی اور انہیں 144 ارب 43 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔

سولر پاور پلانٹس نے ایک ہزار 74 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جنہیں حکومت نے 36 ارب 51 کروڑ روپے ادا کیے۔بیگاس سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 714 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی اور انہیں 14 ارب 82 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق مذکورہ اعداد و شمار مئی 2026 تک کی ادائیگیوں پر مشتمل ہیں جبکہ جون 2026 کی حتمی بلنگ ابھی باقی ہے۔