میر رضا قتل کیس،خول گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوا،واچ سے بھی شواہد نہ ملے
میر رضا علی خان 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے-دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی۔
فائل فوٹو
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے قتل کیس میں تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جائے وقوع سے ملنے والے گولی کے خول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے نشانات سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے ملنے والے ٹیسٹ خول سے مطابقت نہیں رکھتے۔
تفتیشی حکام کے مطابق کرائم سین سے حاصل کیے گئے خول اور سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے فائر کیے گئے ٹیسٹ خول کے نشانات مختلف پائے گئے۔ میر رضا کی اسمارٹ واچ کے فرانزک جائزے سے بھی تاحال ایسا کوئی شواہد سامنے نہیں آیا جو کیس کی تفتیش میں مددگار ثابت ہوسکے۔
مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر کے مطابق پولیس نے واقعے کے آٹھ روز بعد جائے وقوع سے گولی کا خول ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے حاصل کیا گیا خول کرائم سین سے ملنے والے خول سے میچ نہیں ہوا، جبکہ فرانزک رپورٹ پولیس کو دو روز بعد موصول ہوگئی تھی لیکن اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
کیس کے مطابق میر رضا علی خان 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے۔ وہ صبح تقریباً 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی۔
پولیس کے مطابق میر رضا کو سینے میں گولی لگی تھی جبکہ ان کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاش ملنے سے ایک روز قبل مقتول کے تمام سماجی رابطوں کے اکاؤنٹس بند کردیئے گئے تھے۔
میر رضا کے اہل خانہ کے مطابق مقتول کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے پرجوش تھے۔
مقتول کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ بعد ازاں عدالتی حکم پر 8 اگست کو قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد اسی روز تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی، جبکہ جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی موجود تھے۔ رپورٹ میں پسلیوں، جبڑے، ناک اور چہرے پر چوٹوں اور فریکچر کے علاوہ دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
کیس میں سامنے آنے والے تازہ فرانزک نتائج کے بعد جائے وقوع سے ملنے والے خول اور سیکیورٹی گارڈ کے ہتھیار کے درمیان تعلق کے حوالے سے مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ تفتیش کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ بھی جاری ہے۔