اقوام متحدہ کی اسرائیل کو شام میں فوجی کارروائیوں پر وارننگ

جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، زمینی کارروائیوں، گشت، چھاپوں اور تلاشی کی سرگرمیوں سے مقامی شہری متاثر ہورہے ہیں۔

September 9, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنیوا: شام کی صورتحال پر تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی گرفتاری سمیت بعض اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بریفنگ کے دوران کمیشن کی رکن فیونوالا نی اولین نے بتایا کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق زمینی کارروائیوں، گشت، چھاپوں اور تلاشی کی سرگرمیوں سے مقامی شہری متاثر ہورہے ہیں۔

کمیشن کے مطابق جون تک اسرائیلی فوج نے شام سے 49 شہریوں کو حراست میں لیا، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض زیر حراست افراد کو شام سے باہر منتقل کیا گیا جبکہ کچھ کو بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر رکھا گیا، جس پر تشدد یا بدسلوکی کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے عارضی چیک پوسٹوں اور مستقل فوجی تنصیبات کے قیام کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں بعض علاقوں سے مقامی آبادی کی نقل مکانی بھی ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل مخالف قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ شام میں قائم محدود بفر زون کا مقصد سیکیورٹی خطرات سے شہریوں کا تحفظ ہے اور اس کی شام میں علاقائی توسیع کی کوئی خواہش نہیں۔

شامی حکومت نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ دمشق کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیاں شام کی خودمختاری اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں اور شہریوں سے متعلق اقدامات کی قانونی حیثیت پر مزید توجہ دینے پر زور دیا ہے۔