منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف نگرانی سخت۔نیا نظام نافذ
ایف بی آر نے غیرمالیاتی کاروبار اور پیشہ ورانہ شعبوں کی نگرانی کا نظام بدل دیا
فائل فوٹو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف نگرانی مزید مؤثر بنانے کے لیے غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ اداروں کی نگرانی کا نظام سخت کرتے ہوئے افسران کے دائرہ اختیار میں بڑی تبدیلی کر دی ہے۔
ایف بی آر نے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت ڈی این ایف بی پیز ریگولیشنز 2020 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے نان فنانشل بزنسز اینڈ پروفیشنز کی نگرانی کا موجودہ نظام تبدیل کر دیا، جبکہ افسران کے نئے دائرہ اختیار کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت منی لانڈرنگ ہو یا دہشت گردی کی مالی معاونت، پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، کہاں جا رہا ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اس سب کی نگرانی کی جائے گی۔ ڈی جی ڈی این ایف بی پیز کو پورے پاکستان میں نگرانی کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، ڈپٹی یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسپکٹرز کو بھی نگرانی کی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں۔
سونا چاندی کے تاجر، وکلا، ڈاکٹرز اور اکاؤنٹنٹس سمیت دیگر شعبے بھی نگرانی کے دائرے میں آئیں گے۔
مختلف شہروں اور علاقوں کے لیے افسران کے اختیارات اور ذمہ داریاں بھی واضح کر دی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں ایل ٹی او اسلام آباد، آر ٹی او راولپنڈی اور گلگت بلتستان سے متعلق کیسز نگرانی کے دائرے میں ہوں گے، جبکہ کراچی میں ایل ٹی او کراچی، کارپوریٹ ٹیکس دفاتر اور متعلقہ آر ٹی اوز کے ڈی این ایف بی پیز کیسز شامل ہوں گے۔
لاہور کے دائرہ اختیار میں لاہور کے ساتھ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان، ساہیوال اور بہاولپور کے کیسز بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔
کوئٹہ میں آر ٹی او کوئٹہ کے دائرہ اختیار والے کیسز جبکہ خیبر پختونخوا میں پشاور اور ایبٹ آباد کے آر ٹی اوز کے تحت آنے والے کیسز کی نگرانی کی جائے گی۔
ایف بی آر نے نگرانی کی ذمہ داریاں مختلف افسران میں تقسیم کر دی ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر کسی بھی افسر کو مخصوص چارج کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں ادارے میں جاری اصلاحات، پی آر اے ایل کی تنظیم نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کے تدارک کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائی مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے آئرس 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے، جبکہ آئرس 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق پی آر اے ایل میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت تعینات کی گئی ہے۔ آئرس 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت نتائج سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فیس لیس اسیسمنٹ سے نہ صرف محاصل میں بہتری آئی بلکہ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ان کی نگرانی بھی بہتر ہوئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے، جسے عبوری انتظام کے تحت 31 دسمبر 2026 تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں اس نظام کے ذریعے 236 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں۔ دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے قانونی پٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ، جی پی ایس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ای آر پی نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ سمیت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
راہِ گزر ایپ کے ذریعے 2,500 غیر قانونی پٹرول پمپس بند کرائے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانا، ریونیو وصولی میں اضافہ اور اسمگلنگ کا مکمل تدارک ہے۔ انہوں نے ایف بی آر میں اچھی شہرت کے حامل گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔