ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرۂ احمر پر کنٹرول چاہتا ہے:یمنی سفیر
لڑائی شروع کرنے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم اور تزویراتی مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فائل فوٹو
دوحہ: یمن کے قطر میں سفیر راجح بادی نے الزام عائد کیا ہے کہ یمن میں حالیہ لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کے پیچھے ایران کا کردار ہے اور تہران حوثی گروپ کے ذریعے بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزرگاہوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔
یمنی سفیر کے مطابق لڑائی شروع کرنے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم اور تزویراتی مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
راجح بادی نے کہا کہ ایران اور حوثیوں کے درمیان روابط اب کوئی پوشیدہ بات نہیں رہے۔ ان کے بقول تہران اپنے خطے میں موجود دباؤ کے ذرائع میں سے ایک کے طور پر حوثیوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یمنی سفیر نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے حوالے سے یہ مؤقف درست ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب پر اثر و رسوخ رکھتا ہے تو ایسی صورتحال انتہائی طاقتور تزویراتی حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ یمنی سفیر کے یہ الزامات ان کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر مؤقف اس خبر میں شامل نہیں۔