باب المندب کی آبی گذرگاہ میں واقع جزیرے میون پر حوثیوں کا قبضہ
سرکاری فورسز کے انخلا کے ایک روز بعد مسلح حوثی جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیاں میون جزیرے پر پہنچ گئیں۔
فائل فوٹو
صنعا: یمن کے حوثی حوثی ضنگجوؤں نے باب المندب کی آبی گذرگاہ کے دہانے پر واقع اہم جزیرے میون پر قبضہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین اور ایک مقامی سرکاری اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حوثیوں نے جزیرہ پیریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، پر’کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
سرکاری اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری فورسز کے انخلا کے ایک روز بعد مسلح حوثی جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیاں میون جزیرے پر پہنچی ہیں۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز جزیرہ میون سے نکل گئی ہیں۔
جزیرہ میون، جسے بعض اوقات باب المندب جزیرہ بھی کہا جاتا ہے، اس آبی گذرگاہ کے وسط میں واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ یمن کے ساحلی شہر ذباب پر بھی حوثیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں باب المندب کی آبی گذرگاہ پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ یہ آبی راستہ سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھی۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں اور حالیہ حملوں میں دو مرتبہ المخا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔