نئے صوبے لسانی نہیں، انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
اگر قومی سطح پر اتفاق ہوجاتا ہے تو بلوچستان اسمبلی بھی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر تعاون کرے گی۔
فائل فوٹو
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع صوبے کو صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر ایک انتظامی اکائی کے طور پر مؤثر انداز میں نہیں چلایا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے صوبے لسانی بنیادوں کے بجائے انتظامی بنیادوں پر تشکیل دیے جانے چاہئیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان نئے صوبوں کے قیام کے لیے تیار ہے، تاہم اس معاملے پر پہلے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہے۔ اگر قومی سطح پر اتفاق ہوجاتا ہے تو بلوچستان اسمبلی بھی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر تعاون کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے قیام پر اصولی طور پر اعتراض نہیں، تاہم نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان حکومت کی اڑھائی، اڑھائی سالہ مدت سے متعلق سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان سیاسی معاملات موجود ہیں اور اب اس معاملے پر فیصلہ دونوں جماعتوں نے کرنا ہے۔
بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حالات میں سول اور عسکری اداروں کے درمیان توازن انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کا عدم توازن قابل قبول نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم اپنی سطح پر فیصلے کرتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے۔ انہوں نے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے دوران بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور حکومت اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گی۔
مسنگ پرسنز کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، تاہم ریاست نے قانونی راستہ فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، انہیں عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، طبی معائنہ کرایا جاتا ہے اور اہل خانہ سے ملاقات بھی کرائی جاتی ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں حکومت قانون کے دائرے میں رہ کر کام کررہی ہے اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی مقابلہ جاری رہتا ہے اور انتخابات میں کبھی ایک جماعت کامیاب ہوتی ہے تو کبھی دوسری۔ ان کے مطابق بعض قوم پرست عناصر علیحدگی کی مہم چلاتے ہیں اور عام شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع نہیں دیتے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں یہ پیغام اچھا نہیں لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک اہم بفر زون ہے اور یہاں کے عوام پہلے پاکستانی ہیں، اس کے بعد بلوچ ہیں۔
انہوں نے پنجاب اور سندھ کے عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونے دے گی۔
دہشت گردی کے حوالے سے سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت دہشت گرد عناصر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ افغان نیشنل آرمی سے متعلق عناصر کی موجودگی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں اور صوبے میں ان کی موجودگی کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔