شرح سود بڑھنے کے خدشات پر اسٹاک ایکس چینج میں شدید مندی

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

September 14, 2026 · قومی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بیرونی منظر اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج کا تجارتی ہال

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بیرونی منظر اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج کا تجارتی ہال

 

 شرح سود میں اضافے کے خدشات اور فروخت کے شدید دباؤ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

 

دورانِ کاروبار مارکیٹ ایک لاکھ 70 ہزار، 169 ہزار اور 168 ہزار پوائنٹس کی تین اہم حدیں گنوا بیٹھی، اور 100 انڈیکس 2127 پوائنٹس گر کر ایک لاکھ 68 ہزار 385 پوائنٹس پر آ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کا آغاز 682 پوائنٹس کی مندی سے ہوا تھا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران 2900 سے زائد پوائنٹس کی مندی بھی ریکارڈ کی گئی۔

 

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقدہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرح سود کو 11.5 فیصد کی موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھا جائے گا۔

 

معاشی ماہرین کی جانب سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر مرکزی بینک شرح سود میں پچاس بیسز پوائنٹس (آدھا فیصد) تک کا اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جماعت اسلامی کے امیر نے شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کا مطالبہ کیا تھا۔ قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 11.15 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اس فیصلے سے مارکیٹ میں پھیلی غیر یقینی صورتحال میں کمی واقع ہوگی اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔