آسٹریا نے ایران کے محمد اسلامی کو ویانا آنے سے روک دیا
محمد اسلامی کے لیے اقوام متحدہ پابندیوں سے استثنیٰ کی ایرانی درخواست امریکی حکومت کی براہ راست مداخلت پر مسترد کی گئی۔
فائل فوٹو
ویانا: آسٹریا نے ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کو ویانا آنے سے روک دیا۔
آسٹریا نے محمد اسلامی کے حوالے سے یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ پر اٹھایا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق محمد اسلامی کے لیے اقوام متحدہ پابندیوں سے استثنیٰ کی ایرانی درخواست امریکی حکومت کی براہ راست مداخلت پر مسترد کی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد اسلامی کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی کانفرنس میں آج خطاب کرنا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محمد اسلامی کو دوران پرواز روک کر واپس تہران بھیجا گیا۔
محمد اسلامی کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی: امریکی وزیر توانائی
واشنگٹن: امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کی ویانا میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں سالانہ جنرل کانفرنس میں عدم شرکت سے متعلق ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’محمد اسلامی کا نام پابندیوں کے شکار افراد کی فہرست میں ہے اس لیے انھیں اس کانفرنس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
کرس رائٹ کے مطابق محمد اسلامی نے پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
ایران نے آج مؤقف اختیار کیا کہ آسٹریا نے امریکی دباؤ کے باعث محمد اسلامی کو ویانا میں داخلے کی اجازت نہیں دی، جس کے نتیجے میں وہ آئی اے ای اے کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔
کرس رائٹ کے بیان کے بعد ویانا میں ایران کے سفیر اور آئی اے ای اے میں ایرانی نمائندے رضا نجفی نے اس اقدام کو ’تخریب کاری‘ قرار دیتے ہوئے آسٹریا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
رضا نجفی نے کہا کہ ’ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں آسٹریا کی حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی کا ناقابلِ قبول ریکارڈ موجود ہے، جس کے باعث یہ واضح ہے کہ آسٹریا اس منصب کے لیے موزوں نہیں۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق آسٹریا نے محمد اسلامی کے لیے استثنیٰ کی درخواست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو بھیجی تھی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
آسٹریا کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سفیر رضا نجفی نے کہا کہ ’یہ حیران کن ہے کہ آسٹریا کسی ایسی قرارداد یا کمیٹی کا حوالہ دے کر اپنے اقدام کا جواز پیش کرے جو اب مؤثر نہیں رہی یا جس کا وجود ہی نہیں۔‘