خود سوزی کرنے والے سینیٹری ورکر کے ورثاء کو تمام واجبات فوری ادا کرنے کا حکم
ٹرمینیشن لیٹر جاری کرنےکے باوجود ملازم نہ ہونے کا دعویٰ،حکام سینیٹ کمیٹی کو مطمئن کرنےمیں ناکام
فائل فوٹو
سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں ستھرا پنجاب کے سینیٹری ورکر ذیشان کی خودسوزی کے معاملے پرحکام کے متضاد بیانات پرچیئرپرسن ثمینہ زہری نے شدید برہمی کا اظہار کیا،اجلاس میں ذیشان کے ورثا اور ستھرا پنجاب حکام کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو دونوں کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف نکلا۔
ستھرا پنجاب حکام نےمؤقف اختیارکیا کہ ذیشان کبھی کمپنی کا ملازم نہیں رہا،جس پر چیئرپرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز زہری نے شدید برہمی کا اظہارکیا۔ انہوں نےسوال اٹھایا کہ اگر ذیشان ملازم نہیں تھا تو اس کے نام پر ٹرمینیشن لیٹرکیوں جاری کیاگیا؟گزشتہ دو اجلاسوں میں حکام نے بتایا تھا کہ ذیشان کو ملازمت سے نکالا گیا، اسے تنخواہ بھی دی گئی اور ٹرمینیشن لیٹر بھی کمیٹی میں جمع کرایا گیا تھا۔
ذیشان کےبھائی نےکمیٹی کو بتایا کہ ذیشان کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپےطےتھی، تاہم شروع سے صرف 19 ہزار روپےادا کیےجارہےتھے،تنخواہ کی شکایت کرنےپرذیشان کامبینہ طورپرتبادلہ کردیاگیااورواجبات بھی مکمل ادا نہیں کیے گئے۔
ذیشان کے بھائی کےمطابق 8 جون کو ذیشان نے ویڈیو بنا کر تنخواہ نہ ملنے پر خودسوزی کی دھمکی دی تھی،بعد ازاں اس نے خودسوزی کرلی۔
ڈی جی ستھرا پنجاب اورگوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بھی کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے،چیئرپرسن نے سوال کیاکہ اگرایک شخص تنخواہ نہ ملنے پرخودسوزی کرلے تو آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر،متعلقہ پولیس حکام،ستھرا پنجاب اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے ذیشان کی ملازمت، تنخواہوں اورواجبات سمیت مکمل ریکارڈ طلب کرلیا،متعلقہ حکام کو آئندہ اجلاس میں پیش ہونےکی ہدایت بھی کی گئی۔