پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں: حکومت کا ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر غور

ایندھن کی بچت کیلئے سرکاری و نجی دفاتر میں چار دن کام اور ہفتے میں تین دن تعطیلات کی تجویز زیر غور ہے۔

September 15, 2026 · اہم خبریں
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی منڈی میں بالخصوص امریکا اور ایران کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ملک میں «اسمارٹ لاک ڈاؤن» نافذ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی خزانے اور عوام کو بڑھتے ہوئے مالی بوجھ سے بچانے کے لیے مختلف اہم تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں چار دن کام اور تین دن (جمعہ، ہفتہ اور اتوار) کو چھٹی کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کی غیر ضروری نقل و حمل اور ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے لیے روٹیشن کا فارمولا نافذ کرنے اور کچھ عملے کو گھر سے کام (work from home) کی پالیسی کے تحت لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایندھن کی بچت کی خاطر 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ (استعمال سے روکنے) کرنے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔ مزید برآں، بازاروں کی تین روزہ بندش اور کاروباری اوقات کار کو کم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کی کھپت کو کم سے کم کیا جا سکے۔ متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے ان تجاویز پر مشاورت کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج شام تک متوقع ہے۔