بحرین اور امارات میں کلاؤڈ انفرااسٹرکچر ٹھیک نہیں ہوسکتا، ایمیزون نے ہار مان لی
ایرانی حملوں سے اے ڈبلیو ایس کے ڈیٹا سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا تھا
بحرین اور امارات میں کلاؤڈ انفرااسٹرکچر ٹھیک نہیں ہوسکا، ایمیزون نے ہار مان لی
ایمیزون ویب سروسز نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد وہ بحرین میں اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر اور متحدہ عرب امارات میں ڈیٹا ہوسٹنگ کے 3 زونز میں سے ایک کو مرمت نہین کر سکتا اور ان تک رسائی بحال نہیں ہوگی۔
اپنی اسٹیٹس اپ ڈیٹ میں اے ڈبلیو ایس نے رپورٹ کیا کہ ہمارے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان اس حد سے تجاوز کر گیا ہے جس کو برداشت کرنے کے لیے ہماری علاقائی اور کثیر زون سروسز کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں وسائل اور ڈیٹا جو کہ خصوصی طور پر ایک زون کے اندر رکھے گئے تھے، جنہیں mec1-az2 کا نام دیا گیا ہے، اس حد تک تباہ ہو چکے ہیں کہ ان کی بحالی کی کوئی امید نہیں ہے، جبکہ انجینئر اب بھی دو دیگر متاثرہ زونز اور وسیع تر اماراتی خطے سے جو کچھ بچا سکیں اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک زون سے مراد ایک یا ایک سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز کا ایک کلسٹر ہے جو ایک ہی جغرافیائی خطے کے اندر موجود ہے، وہ ڈھانچہ جس پر اے ڈبلیو ایس انحصار کرتا ہے تاکہ ایک سائٹ بند ہونے پر سروسز کو چلتا رکھا جا سکے۔
یہ بحران مارچ سے چلا آ رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، اور تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا۔
اے ڈبلیو ایس نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ اس کی متحدہ عرب امارات کی دو تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس کے بحرین کے مقامات میں سے ایک کے قریب ڈرون حملے سے وہاں کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔ ا
اپریل میں خطے کے تاریک ہونے سے پہلے بحرین میں مقیم زیادہ تر صارفین نے اے ڈبلیو ایس کے مشورے پر اپنے کام کا بوجھ دوسری جگہ منتقل کر دیا تھا، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اب پیچھے رہ جانے والی کسی بھی چیز کو بحال کرنے کے لیے ہر ممکنہ راستہ آزما لیا ہے۔
ان نقصانات نے خلیج کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی لچک پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
متحدہ عرب امارات پہلے ہی ایک بڑے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر پروجیکٹ کو جنگ سے محفوظ بنانے کے منصوبوں پر نظرثانی کر رہا ہے، ڈیٹا سینٹر زیرزمین ہوں گے اور انہیں دھماکے سے محفوظ بنایا جائے گا۔