میر رضا کیس، 78 افراد کے بیانات ریکارڈ، تاحال قتل کا سراغ نہ مل سکا

ابتدائی تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے گھاس پر خون کے نشانات، ایک پھول دان اور خون سے بھرا لفافہ ملا، جبکہ 30 بور پستول کی گولی کا خول بھی برآمد کیا گیا۔

September 16, 2026 · قومی
میر رضا کیس، 78 افراد کے بیانات ریکارڈ، تاحال قتل کا سراغ نہ مل سکا

میر رضا کیس، 78 افراد کے بیانات ریکارڈ، تاحال قتل کا سراغ نہ مل سکا

اسلام آباد: کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران اب تک 78 افراد کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں، تاہم تفتیش کے دوران کسی شخص سے قتل کے حوالے سے کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کراچی پولیس چیف نے میر رضا کی موت سے متعلق تحقیقات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا 28 جولائی کو انتقال کر گئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کے والد نے پولیس کو رپورٹ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے گھاس پر خون کے نشانات، ایک پھول دان اور خون سے بھرا لفافہ ملا، جبکہ 30 بور پستول کی گولی کا خول بھی برآمد کیا گیا۔

کراچی پولیس چیف کے مطابق کیس کی پہلی تحقیقاتی ٹیم یکم اگست کو تشکیل دی گئی، جبکہ مزید تحقیقات کے لیے 9 اگست کو دوسری تفتیشی ٹیم بنائی گئی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر قرۃ العین مری نے کراچی پولیس چیف سے سوال کیا کہ آیا یہ درست ہے کہ میر رضا نے اپنی موت سے قبل بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم والدین کو منتقل کردی تھی اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے تھے۔

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا میر رضا عام طور پر اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرتے تھے، لیکن واقعے والے روز انہوں نے آن لائن گاڑی منگوائی تھی؟

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ان سوالات کے جواب میں بتایا کہ یہ تمام معلومات درست ہیں۔ ان کے مطابق میر رضا واقعے والے روز گھر سے پستول لے کر بھی نکلے تھے۔

اجلاس میں میڈیکو لیگل رپورٹ سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس کو بیان دینے سے قبل میڈیا پر اپنا مؤقف بیان کردیا تھا؟ اس پر کراچی پولیس چیف نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس کو بیان دینے سے پہلے ٹی وی پر بیان دیا تھا۔

آزاد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ 29 جولائی کو تیار ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سامنے سے لگنے کا ذکر تھا، تاہم 8 اگست کی رپورٹ میں گولی پیچھے سے لگنے اور سینے سے باہر نکلنے کی بات درج کی گئی۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا کہ امید ہے کہ تحقیقات کے معاملے میں کسی کو تحفظ نہیں دیا جا رہا۔ اجلاس کے دوران سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ان اطلاعات کا بھی ذکر کیا گیا جن میں میر رضا کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

کراچی پولیس چیف کے مطابق میر رضا کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے کچھ نشانات بھی پائے گئے، جبکہ چہرے پر تشدد کے نشانات موجود ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

انہوں نے میر رضا کی نقل و حرکت کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 28 جولائی کو سہ پہر 3 بج کر 42 منٹ پر وہ بہادرآباد سے سکیورٹی گارڈ سے پستول لے کر روانہ ہوئے۔ پولیس کے مطابق میر رضا پستول واپس کرنے کے بعد 3 بج کر 52 منٹ پر گھر پہنچے۔

پولیس کے مطابق میر رضا نے 3 بج کر 57 منٹ پر آن لائن بائیک بک کی اور گھر سے نکلتے وقت اپنی گاڑی کی چابی، گھڑی، گاڑی اور بٹوا گھر پر چھوڑ دیا۔

آزاد خان کے مطابق میر رضا شام 4 بج کر 9 منٹ پر ایک سفید گاڑی میں گھر سے روانہ ہوئے اور 4 بج کر 28 منٹ پر منظور اسٹریٹ، گلستان جوہر کے مقام پر گاڑی سے اترے۔ انہوں نے ڈرائیور کو کرایہ ادا کیا، جبکہ 4 بج کر 38 منٹ پر انہیں نرسری کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ میر رضا کے والدین ان کی موت کو قتل قرار دے رہے ہیں، اسی وجہ سے پولیس بھی کیس کی تفتیش قتل کے مقدمے کے طور پر کر رہی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ میر رضا کو جولائی کے دوران تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے کا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔ ان کے مطابق میر رضا کے دونوں ہاتھوں سے پستول کے نشانات ملے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اب تک 78 افراد سے پوچھ گچھ اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم تاحال کسی شخص کے بیان یا شواہد سے میر رضا کے قتل کا کوئی واضح سراغ نہیں ملا۔

قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فیصلہ کیا ہے کہ میر رضا کیس کی مزید پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے 24 ستمبر کو کراچی میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ کمیٹی نے کیس کی تحقیقاتی ٹیم کو بھی آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر تفتیش سے متعلق بریفنگ دینے کی ہدایت کردی۔