پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، طلال چوہدری

پاکستان کو صرف دہشتگردی کا سامنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسے نیٹ ورک کی سرگرمیاں بھی موجود ہیں جو مختلف جرائم کے ذریعے دہشتگرد کارروائیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

September 16, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں میں افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ دہشتگردی کے ساتھ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک بھی کام کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو صرف دہشتگردی کا سامنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسے نیٹ ورک کی سرگرمیاں بھی موجود ہیں جو مختلف جرائم کے ذریعے دہشتگرد کارروائیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق اس نیٹ ورک میں اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی پٹرولیم مصنوعات اور اسلحے کی فراہمی جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد ان کاموں کو کاروبار کا نام دیتے ہیں، تاہم حکومت کے نزدیک یہ سرگرمیاں دہشتگردی کی معاونت کے زمرے میں آتی ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ گاڑیوں کی اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل، غیر قانونی پٹرولیم مصنوعات اور اسلحے کی فراہمی سے حاصل ہونے والے وسائل مختلف جرائم پیشہ عناصر اور بڑے نیٹ ورکس تک پہنچتے ہیں، جنہیں دہشتگرد کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

وزیر مملکت نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا مذکورہ تنظیم کشمیریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سیاسی جماعت یا کمیٹی ہے یا اسے سیاسی بنیادوں پر کالعدم قرار دیا گیا۔

ان کے مطابق حکومت نے اس تنظیم کے خلاف کارروائی دستیاب شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر کی اور اس معاملے میں مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض آڈیوز کے حوالے سے بھی مختلف سوالات اٹھائے گئے، جن میں یہ بات شامل تھی کہ آیا آڈیوز مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں یا ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے شواہد اور تحقیقات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس دہشتگردی اور اس کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد موجود ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ دہشتگردی سے متعلق معاملات کو سیاسی بحث بنانے کے بجائے دستیاب شواہد اور تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے ایک شخص کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ کئی برس سے آزاد جموں و کشمیر میں مختلف افراد کو اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص کا نام ضیا ہے اور وہ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی ہے۔ طلال چوہدری کے مطابق ضیا مبینہ طور پر گزشتہ 8 سے 10 برس سے مختلف افراد کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران اسلحے کی فراہمی ایک مخصوص گروہ کے افراد تک براہ راست ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت دہشتگردی اور اس کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے دستیاب شواہد اور قانونی طریقہ کار کو بنیاد بنا رہی ہے۔