کارکنوں کی منظم اور محفوظ مائیگریشن کے راستے تیار کرناضروری ہے، چوہدری سالک
اسلام آباد میں بڈاپسٹ پراسیس تھیمیٹک ورکنگ گروپ کے اجلاس سے خطاب
وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے حقیقی لیبر مارکیٹ طلب کی بنیاد پر محفوظ، منظم، باقاعدہ اور باوقار مائیگریشن کے راستے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وہ اسلام آباد میں لیگل مائیگریشن کے راستوں سے متعلق بڈاپسٹ پراسیس تھیمیٹک ورکنگ گروپ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔چوہدری سالک نے کہا کہ پاکستان نے 2025 میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد کارکنوں کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بھیجا، جو ملک کے لیے محنت کشوں کی بین الاقوامی نقل و حرکت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وفاقی وزیر کاکہناتھا کہ پاکستان کی حکمتِ عملی میں مائیگریشن سے قبل کارکنوں کی مناسب تیاری، بیرونِ ملک ملازمت کے دوران ان کا تحفظ، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط برقرار رکھنا اور وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن کی دوبارہ معاشی و سماجی شمولیت میں معاونت شامل ہے۔
انہوں نے نیشنل ایمیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کو بھی اجاگر کیا، جس میں محفوظ اور باقاعدہ مائیگریشن، ہنرمندی کا فروغ، اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود، تارکینِ وطن سے روابط اور واپس آنے والے لوگوں کی بحالی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
چوہدری سالک حسین نے یورپی یونین،پاکستان ٹیلنٹ پارٹنرشپ کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد پاکستانی کارکنوں کو یورپ میں روزگار کے مواقع کے لیے روانگی سے قبل تربیت، زبان کے کورسز، مہارتوں کی باقاعدہ شناخت اور ملازمتوں سے مطابقت پیدا کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔انہوں نے حکومتوں، آجروں اور تربیتی اداروں کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور بھرتی و ویزا کے عمل کو مزید قابلِ پیش گوئی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (ICMPD) کی ڈائریکٹر جنرل سوزان راب نے قانونی مائیگریشن اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے مؤثر راستے تیار کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مسلسل دوسری مرتبہ اجلاس کی میزبانی کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
سوزان راب نے کہا کہ قانونی مائیگریشن کے راستوں اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے حوالے سے پاکستان کی فعال شمولیت، بین الاقوامی اور بین العلاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے بڈاپسٹ پراسیس کو مائیگریشن کے حوالے سے پالیسی سازی اور تعاون کے لیے ایک طویل عرصے سے قائم پلیٹ فارم قرار دیا، جس میں 50 سے زائد حکومتیں اور 15 سے زائد شراکت دار ادارے شامل ہیں۔
سوزان کے مطابق مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ قانونی مائیگریشن کے مواقع معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں اور محفوظ، منظم اور باقاعدہ مائیگریشن کو فروغ دے سکتے ہیں۔
سوزان راب نے نجی شعبے کے نمائندوں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آجر ایسے مائیگریشن کے راستے تشکیل دینے میں اہم شراکت دار ہیں جو حقیقی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو روزہ اجلاس کے نتیجے میں قانونی مائیگریشن کے راستوں اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے حوالے سے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس سفارشات اور عملی حل سامنے آئیں گے۔
دو روزہ اجلاس میں ترکی، ہنگری، اٹلی، یورپی یونین، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندے اور سفارت کار شرکت کر رہے ہیں۔