مشہور فیشن برانڈ کو صارف سے شاپنگ بیگ کے پیسے وصول کرنا مہنگا پڑ گیا
صارف کو شاپنگ بیگ کے 30 روپے کیساتھ 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے، حکومت کو مزید 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرے، عدالت
فائل فوٹو
پشاور: پشاور کی کنزیومر کورٹ نے صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی پر ایک مشہور فیشن برنڈ کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو شہری سے شاپنگ بیگ کی مد میں وصول کی گئی رقم واپس کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری ہرجانے اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مشہور فیشن برانڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ صارف کو شاپنگ بیگ کے وصول کیے گئے 30 روپے کے ساتھ 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے، جبکہ مزید 25 ہزار روپے کا جرمانہ سرکاری خزانے (حکومت) میں جمع کرایا جائے۔
کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج نے برانڈڈ بیگز پر رقم کی وصولی کو قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکمپنی کے لوگو (علامت) والے بیگز تو دراصل آپ کی اپنی برانڈ پروموشن اور اشٹیار بازی کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ اپنے شاپنگ بیگ کے ذریعے اپنی کمپنی کی مشہوری کر رہے ہیں تو اس کا خرچہ صارف کی جیب پر کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ یہ عمل صارف قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے
پشاور کے ایک شہری نے مشہور فیشن برانڈکے آؤٹ لیٹ سے خریداری کی تھی، جہاں سے سامان کے ساتھ ملنے والے لوگو والے شاپنگ بیگ کے اضافی 30 روپے وصول کیے گئے۔ شہری نے اس ناانصافی اور جبری وصولی کے خلاف کنزیومر کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ شہری کے حق میں سناتے ہوئے تمام تجارتی اداروں اور فیشن برانڈز کو واضح پیغام دیا ہے کہ اپنے برانڈ کی تشہیر کے لیے استعمال ہونے والے سامان کے پیسے شہریوں سے وصول کرنا غیر قانونی ہے۔