ظفران شہید کیس،مرکزی اشتہاری پولیس مقابلے میں ہلاک

نصیب اللہ 9 ستمبر کو پولیس پارٹی پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں براہ راست ملوث تھا۔ اس واقعے میں کانسٹیبل ظفران شہید جبکہ امتیاز زخمی ہوئے تھے۔

September 17, 2026 · قومی
ظفران شہید کیس،مرکزی اشتہاری پولیس مقابلے میں ہلاک

ظفران شہید کیس،مرکزی اشتہاری پولیس مقابلے میں ہلاک

کرک: ظفران شہید کیس میں کرک پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی اشتہاری نصیب اللہ کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق نصیب اللہ 9 ستمبر کو پولیس پارٹی پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں براہ راست ملوث تھا۔ اس واقعے میں کانسٹیبل ظفران شہید جبکہ امتیاز زخمی ہوئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اشتہاری نصیب اللہ کے سرابی کے پہاڑی علاقے میں روپوش ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ضلعی پولیس کی مختلف ٹیموں نے ڈی پی او کرک عمران خان کی نگرانی میں علاقے میں کارروائی شروع کی۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مطلوب ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں نصیب اللہ ہلاک ہوگیا۔
ڈی پی او کرک عمران خان نے پولیس ٹیموں کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خصوصی ٹیموں کی مسلسل محنت اور تفتیش کے نتیجے میں مطلوب ملزم کا سراغ لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس میں مزید ملوث افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کرک پولیس کو کارروائی پر شاباش دیتے ہوئے امن و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔