وزارت داخلہ کا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں سے متعلق مشاورت کا فیصلہ

بچوں کے استحصال، فحاشی اور فیملی وی لاگنگ سے متعلق تجاویز زیرغور آئیں گی

September 17, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 اسلام آباد: وفاقی وزارت داخلہ نے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق پابندیوں پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کے تحت اجلاس میں پی ٹی اے، این سی سی آئی اے، وفاقی اور صوبائی پولیس حکام سے مشاورت کی جائے گی۔ اجلاس میں بچوں کے استحصال اور فحاشی کے کیسز کا جائزہ پیش کیا جائے گا، جبکہ مشاورت کے دوران حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق بچوں کے استحصال اور فحاشی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیملی وی لاگنگ کے نام پر فحاشی کو کنٹرول کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ کئی ممالک کی طرح کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کی سوشل میڈیا پالیسیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یورپی یونین کی 13 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز

دوسری جانب یورپی یونین نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز دے دی ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے یورپی پارلیمنٹ میں سالانہ خطاب کے دوران EU Kids Act نامی ڈیجیٹل ہیلتھ ایکٹ کا اعلان کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کو ان کے بچپن سے محروم کر رہی ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مجوزہ قانون کے تحت 13 سے 15 سال تک کے بچے آزادانہ پرسنل اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔