پاکستان ریلوے میں اہم پیش رفت،ٹکٹ چیکنگ ریلوے پولیس کے سپرد،بلوچستان کیلئے پہلی اشتراکی ٹرین تیار

بلوچستان کی ٹرین 120 روز میں مکمل ہوئی، افتتاح کی تاریخ تاحال مقرر نہیں

September 19, 2026 · قومی

فائل فوٹو

لاہور: ریلوے پولیس کو مسافروں کے ٹکٹ چیک کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اور اس ضمن میں ریلوے پولیس کے اے آئی جی آپریشنز کی طرف سے تمام ڈویژنوں کے انچارج افسران (ایس پی) کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔

یہ مراسلہ پاکستان ریلوے میں قانونی ذمہ داریوں کے محکمہ جاتی اختلافِ رائے کے باوجود جاری کیا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے کے برطانوی دور سے سنہ 1977 میں ریلوے پولیس کے قیام تک ریلوے کے قانون میں ہونے والی ترامیم میں پولیس کو صرف ریلوے کے اثاثوں، سیکیورٹی اور محفوظ سفر میں معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ مسافروں کے ٹکٹ کے اجرا سے چیکنگ تک تمام امور کا محکمہ ریلوے کا کمرشل ڈیپارٹمنٹ ذمہ دار ہے۔

اس ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داریاں پولیس کو دینے پر ادارہ جاتی اختلافِ رائے اس وقت شروع ہوگیا تھا جب محمد حنیف عباسی نے محکمے کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پولیس کو یہ ذمہ داریاں سونپنا چاہی تھیں اور کمرشل ڈیپارٹمنٹ نے ریلوے ایکٹ میں متعین کردہ ذمہ داریوں کا حوالہ دے کر اعتراض اٹھایا تھا۔

تاہم ریلوے پولیس کی طرف سے جاری سرکاری مراسلے میں تمام تھانہ انچارجوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام ٹرینوں میں بلا ٹکٹ سفر کرنے والوں کی چیکنگ یقینی بنائیں، جبکہ اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیکنگ پر مامور عملے کو واٹس ایپ کے ذریعے ’’اکبر کنٹرول‘‘ کو اپنی موجودگی دکھانا لازم قرار دیا گیا ہے، تاحکمِ ثانی، جبکہ ریلوے پولیس کے تمام سپرنٹنڈنٹس روزانہ صبح 10 بجے اے آئی جی نارتھ کو عملدرآمد رپورٹ ارسال کریں گے۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے اور صوبوں کے اشتراک سے مقامی سطح پر ٹرینیں چلانے کے منصوبے کا ابتدائی مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے، جس میں سب سے پہلے ٹرین صوبہ بلوچستان کے لیے تیار کی گئی ہے۔

’’جناح پیپلز ٹرین‘‘ بلوچستان کی نئی کوچیں تیار ہوچکی ہیں، جن کا اے جی ایم ٹریفک محمد سفیان سرفراز ڈوگر اور سی او پی ایس محمود الرحمن لاکھو نے لاہور واشنگ لائن میں تفصیلی معائنہ کیا۔

لاہور ڈویژن کے ترجمان رفیق ساجد کے مطابق پاکستان ریلوے اور بلوچستان حکومت کی باہمی معاونت سے مکمل ہونے والی اس ٹرین کے معائنے کے دوران ریلوے افسران نے کوچ کے اندر مسافروں کے لیے آرام دہ سفری سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔

یہ ٹرین کوئٹہ کے مضافاتی علاقے کچلاک اور سریاب کے درمیان چلے گی اور یہ منصوبہ 120 روز میں مکمل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت بھی ریلوے کے ساتھ ایسے ہی منصوبوں پر کام کررہی ہیں، لیکن مالی معاونت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ ابتدائی مراحل میں ہیں۔ پہلی ٹرین صوبہ بلوچستان کے لیے مکمل ہوئی ہے، اس طرح کسی صوبے کا پہلا اشتراکی ریل منصوبہ بلوچستان میں مکمل ہوا ہے۔

اس ٹرین کے افتتاح کی تاریخ کا تاحال باقاعدہ شیڈول سامنے نہیں آیا۔ ریلوے کے قانون کے تحت ہر ٹرین پر قومی اور مقامی زبان میں اس کا نام لکھنا لازم ہے، جسے تاحال یقینی نہیں بنایا گیا۔